امام کو احتلام ہوا بھول کر اسی حالت میں نماز پڑھا دیا تو کیا حکم ہے؟


السلام علیکم و رحمة اللہ وبركاته
گروپ میں تشریف فرما علماء حضرات کی بارگاہ التجا ہے 
کہ زید امام ہے   زید نے نماز فجر پڑھائی نماز فجر کے وقت کے ختم ہونے کے ۳ تین گھنٹہ بعد غسل کرنے جاتا ہے تو اب زید اپنی لنگی پر احتلام کے نشانات دیکھتا ہے (زید کو بالکل پتہ نہیں تھا کہ مجھے احتلام ہوا ہے)
تو اب پوچھنا یہ ہے کہ زید اور ان کے مقتدیوں کی نماز ہوئی یا نہیں اگر نہیں تو؟  زید اپنی نماز کا اعادہ کرلیں گے لیکن مقتدیوں کو کیسے کہیں؟ 
جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ

بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں کسی کی نماز نہ ہوئی کہ نماز کے لیے پاکی شرط ہے جو مفقود ہونے کی صورت میں نماز نہ ہوئی ، اور سوال سے ظاہر ہے کہ امام نے بھول کر نماز پڑھائی ہے لہذا اس نماز کی صرف  قضا ہے ، 
  ہاں اگر  امام نے مقتدیوں کے ڈر سے یا کسی اور وجہ سے کیا تب تو سخت گناہ گار اور مستحق عذاب نار اور اگر نماز کو ناپاکی حالت میں جائز سمجھتے ہوئے ایسا کرے تو دائرہ اسلام سے بھی خارج اُس اور توبہ و تجدیدِ ایمان لازم بیوی رکھتا ہے  تو تجدید نکاح بھی ،
     
نور الإيضاح..میں ہے: 
 
و إن ظهر بطلان صلاة امامه  اعاد و يلزم الإمام إعلام القوم بإعادة صلوتهم بقدر التمكن في المختار.."

  اور ٫٫في المختار کے تحت ۔۔حدیث پاک منقول ہے
و على رضي الله عنه صلى بالناس ثم تبين له أنه كان محدث فأعاد وأمرهم أن يعیدوا،،
(نور الإيضاح مع مراق الفلاح  صفحہ ۱۱۰ ،باب الإمامة)

 امام کو چاہیے کہ خود اپنی نماز پھر سے پڑھے اور حتی الامکان تمام مقتدیوں کو جمع کرے  ان سے بتائے کہ احتلام کے بارےمیں مجھے علم  نہیں تھا لہذا حالتِ حالتِ ناپاکی میں لا علمی  کی بنا پر نماز پڑھایا ہوں لہذا نماز نہیں ہوئی آپ لوگ اس نماز کی قضا کرلیں - 
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبــــہ؛
فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی عفی عنہ،
مورخہ:۷ رجب المرجب ۱۴۴۳ ھجری چہار شنبہ)

الجواب صحیح والمجیب نجیح
محمدشرف الدین رضوی ، شیخ الحدیث دارالعلوم حبیبیہ قادریہ، فیلخانہ، ہوڑہ ، کلکتہ
Previous Post Next Post