عقیقہ کب کرنا چاہیے؟عقیقہ بڑے جانور میں کریں تو کیا حکم ہے؟ نیز عقیقہ کے گوشت کا کیا حکم؟●


 (استفتاء) اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ ‎عرض ہے عقیقہ  کب کرنا چاہیے کسی نے جلدی یا دیر کر دی عقیقے میں جیسے 6 دن  میں یا 10بعد یا اس سے زاٸد اگر عقیقے میں بکرا نہ کیا جاے  گاے وغیرہ کیا جاے تو زید  یہ  کے عقیقے کے گوشت کا  کیا حکم  تفصلی جواب اشاد فرما دین  جزاك اللهُ
(مستفتی):محمد رضا کراچی

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ 
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ عقیقہ کبھی بھی کر سکتے ہیں، لیکن عقیقہ کے لیے ساتواں دن بہتر ہے، ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں کوئی حرج نہیں.
جیسا کہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :عقیقہ کے لیے ساتواں  دن بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں سنت ادا ہو جائے گی. بعض نے یہ کہا کہ ساتویں یا چودہویں یا اکیسویں دن، یعنی سات دن کا لحاظ رکھا جائے یہ بہتر ہے اور یاد نہ رہے تو یہ کرے کہ جس دن بچہ پیدا ہو اوس دن کو یاد رکھیں اوس سے ایک دن پہلے والا دن جب آئے وہ ساتواں  ہوگا مثلاً جمعہ کو پیدا ہوا تو جمعرات ساتویں دن ہے اور سنیچر کو پیدا ہوا تو ساتویں  دن جمعہ ہوگا پہلی صورت میں جس جمعرات کو اور دوسری صورت میں  جس جمعہ کو عقیقہ کرے گا اوس میں  ساتویں کا حساب ضرور آئے گا۔
(بہار شریعت شریعت حصہ ۱۵ صفحہ ۳۵۸ عقیقہ بیان)
 عقیقہ میں بکرا ہی کرنا ضروری نہیں، بڑے جانور کو بھی ذبح کرسکتے ہیں، البتہ لڑکے کے لیے دو بکرے یا بڑے جانور میں دو حصہ، لیکن اگر ایک سے بھی کیا جب بھی عقیقہ ہوجائے گا.
جیسا کہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: لڑکے کے عقیقہ میں  دو بکرے اور لڑکی میں  ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں  نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے۔ اور لڑکے کے عقیقہ میں  بکریاں  اور لڑکی میں  بکرا کیا جب بھی حرج نہیں۔ اور عقیقہ میں  گائے ذبح کی جائے تو لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ کافی ہے یعنی سات حصوں میں دو حصے یا ایک حصہ.(ایضا صفحہ ۳۵۹) 
 عقیقہ کا گوشت فقرا اور عزیز و قریب دوست و احباب کو کچا تقسیم کر دیا جائے یا پکا کر دیا جائے یا اون کو بطورِ ضیافت(یعنی بطور مہمان نوازی)و دعوت کھلایا جائے یہ سب صورتیں جائز ہیں. اور عوام میں  یہ بہت مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت بچہ کے ماں باپ اور دادا دادی نانا نانی نہ کھائیں  یہ محض غلط ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں (ایضا) واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ. 

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
۱۸/رجب المرجب ۱۴۴۳ھ یکشنبه

 تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
 حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
 حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
Previous Post Next Post