السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان کرام اس سوال پہ کہ
فرض، واجب، سنت مؤکدہ اور نفل۔ کے سجدوں کے درمیان جب بیٹھتے ہیں تو اس وقت کیا پڑھنا بہتر و مستحب ہے۔
اللہم اغفرلی عافنی
پڑھنا کیسا ہے ؟
بحوالہ جواب ضرور بتائیں
شکریہ
(سائل محمد شاہد اشرفی میسوری الہند)
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
تمام نمازوں میں دونوں سجدوں کے درمیان "اللھم اغفرلی" امام و مقتدی اور منفرد سب کو مستحب ہے
امام اہلسنت حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی الله تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا :دونوں سجدوں کے درمیان میں اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ پڑھنا چاہیے امام کو یا مقتدی کو یا دونوں کو یا امام و مقتدی بلا اس کے پڑھے دونوں سجدے ادا کریں ؟
تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا
*" اللھم اغفرلی"* کہنا امام و مقتدی و منفرد سب کو مستحب ہے اور زیادہ طویل دعا سب کو مکروہ ہے ہاں منفرد کو نوافل میں مضائقہ نہیں
(فتاویٰ رضویہ مترجم 6/182)
مذکورہ بالا عبارت سے یہی ظاہر ہے کہ تمام نمازوں میں پڑھنا مستحب ہے کیونکہ امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے امام و مقتدی و منفرد سب کے لیے فرمایا ہے _
ھذا ماظھرلی وھو سبحانہ وتعالیٰ واحکم واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبــــہ؛
فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی عفی عنہ
مورخہ:۱۷ رجب المرجب ۱۴۴۳ ھجری
۱۹ فروری ۲۰۲۲ عیسوی شنبہ)
الجواب صحیح والمجیب نجیح
محمدشرف الدین رضوی ، شیخ الحدیث دارالعلوم حبیبیہ قادریہ، فیلخانہ، ہوڑہ ، کلکتہ
الحلقةالعلمیہ گروپ
رابطہ؛8052167976)
المشتــہر
منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛دلشاد احمد سدھارتھ نگر یو پی
Tags:
نماز کا بیان