السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسٔلہ میں کہ اگر کس شخص سے جماعت کے دوران کوئی واجب ترک ہو جاۓ تو کیا اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا۔ اگر ہوگا تو کیسے ادا کرےگا بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
ســـاٸل محـمد عبـدالعـزیز رضا مہراجگنجوی
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسـم اللــہ الرحمٰن الرحیـم
الجــوابـــــــــ بعون الملک الوہاب؛
صورت مسئولہ میں مقتدی کی نماز ہوجائے گی ،سجدۂ سہو کی حاجت نہیں، اس لئے کہ اگر مقتدی سے نماز میں کوئی بھی واجب سہواً ترک ہوجائے تو ، اس پر نہ سجدۂ سہو ہے نہ اعادہ ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے
سہو المؤتم لا یوجب السجدۃ ( جلد اول صفحہ ۱۲۸ الباب الثانی عشر فی سجود السھو/ مطبوعہ بولاق مصر )
اور جتہد فی المسائل حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : موتم (یعنی مقتدی ) پر اپنے سہو سے سجدۂ سہو لازم نہیں کیونکہ اگر وہ اکیلا سجدہ کرے تو مخالفت امام لازم ہے ، اور اگر امام بھی اس کے ساتھ سجدہ کرے تو معاملہ برعکس ہوجاتا ہے یعنی اصل تابع، اور تابع اصل بن جاتا ہے"۔ ( فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ ٦٣٩ باب سجود السھو /مکتبہ رضویہ)
واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب
کتبـــــہ؛
حضرت علامہ مولانا محمد معصـــــوم
رضا نوری صاحب قبلہ
مدظلہ العالی والنورانی
منگلور (کرناٹک)
فدایان مسلک اعلیٰ حضرت گروپ
مورخہ؛26/06/2021
رابطہ؛8052167976
الجـــواب صحیح والمجیبـــ نجیح
غلام حضور سرکار تاج الشریعہ
مورخہ؛26/06/2021
رابطہ؛8052167976
الجـــواب صحیح والمجیبـــ نجیح
غلام حضور سرکار تاج الشریعہ
خاک پائے علماء و آئمہ محمد راحت
رضا (نیپالی)
الجـــواب صحیح والمجیبـــ نجیح
العبد العثیم خاکسار حضرت علامہ مولانا
ابو صدف محمد صادق رضا صاحب قبلہ
مدظلہ العالی والنورانی
مقام ؛سنگھیا ٹھاٹھول (پورنیہ)
خادم ؛شاہی جـــامع مـــســجد
الجـــواب صحیح والمجیبـــ نجیح
العبد العثیم خاکسار حضرت علامہ مولانا
ابو صدف محمد صادق رضا صاحب قبلہ
مدظلہ العالی والنورانی
مقام ؛سنگھیا ٹھاٹھول (پورنیہ)
خادم ؛شاہی جـــامع مـــســجد
پـــٹنہ بـــہار الھنـــــــد
Tags:
نماز کا بیان