نماز میں فلا تقهر کی جگہ فلا تنهر پڑھ دیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟



السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ 
علمائے کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ امام نماز فجر میں دوسری رکعت میں سورت ضحیٰ پڑھ رہے  تھے ۔ تو انہوں نے "فلا تقهر" کی جگہ  "فلا تنهر " پڑھا تو ایسی صورت میں نماز ہوجائیگی یا نہیں ؟

سائل طاھر حسین آف پاکستان
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ

بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نماز ہوجائے گی کیونکہ یہاں معنیٰ فاسد نہیں ہورہا ہے " فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ "تو یتیم پر دباؤ نہ ڈالو ۔ 
" وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ " اور منگتا کو نہ جھڑکو   
اگر امام نے تَقْهَرْؕ کی جگہ تَنْهَرْؕ پڑھ دیا تو ترجمہ ہوگا  تو یتیم کو نہ جھڑکو  فلہذا یہاں معنیٰ فساد کی گنجائش نہیں اس لیے نماز ہوگئی، 
(بہار شریعت حصہ سوم صفحہ۵۵۸ میں ہے: اس( یعنی قراءت ) باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ گئے، نماز فاسد ہوگئی، ورنہ نہیں


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت علامہ مولانا معصوم رضا نوری ارشدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی بلرامپور اترولہ
۵ رجب المرجب ۳٤٤١؁ھ بروز سوموار
 
الجواب صحیح والمجیب نجیح :-
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جابر القادری رضوی صاحب قبلہ جمشید پور 
الجواب صحیح والمجیب نجیح :
حضرت علامہ مولانا مفتی شان محمد قادری مصباحی صاحب قبلہ
فیضان غوث خواجہ گروپ

Previous Post Next Post