عورت انتقال کرگئی بعد میں کسی نے خواب میں دیکھا کہ زندہ ہے تو کیا حکم ہے؟


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ  کے بارے میں کہ ہندہ رات میں شوہر سے بات چیت کرتے ہوئے سو گئی شوہر خالد نماز فجر پڑھ کر بیوی ہندہ کو جگانے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہ سکی یہاں تک کہ ڈاکٹر سے چیک آف کرایا دوسرے لوگوں نے نبض دیکھا سب نے کہا کہ انتقال کر گئی پھر محلے میں رشتے داروں میں خبر کی سب آئے  اور ٧ گھنٹے بعد دفن کیا گیا  دفن کے ایک ہفتے بعد محلے کے  پانچ۵؂  عورتوں کے خواب میں لگاتار پانچ رات تک آتی ہے اور کہتی ہے میں بیہوشی میں تھی اور مجھے دفن کر دیا مجھے نکالو نہیں تو میں باہر آجاونگی اس مسئلہ  کا جواب عنایت فرمائیں؛ 
(سائل شیخ نوشاد)

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ 

بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
سوال سے یہی واضح ہے کہ عورت انتقال کرگئی تھی 
 لہذا بغیر کسی روشن دلیل کے 
محض خواب کی بنا پر قبر کھودنا جائز نہیں  کیوں کہ خواب کا اعتبار نہیں،  خواب طرح طرح کے ہوتے ہیں، 
حضور  اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اسی  طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، 
"۔ لا ، الا بدليل جائز و الستر مصون و الرويا فنون فى السراجية ثم الهندية حامل ماتت على حملها سبعة أشهر و كان الولد يتحرك فى بطنها ماتت فدفنت ثم رويت فى المنام انها قالت لا ينبش القبر "   جائز نہیں مگر جب کوئی روشن دلیل ہو پردہ محفوظ ہے اور خواب طرح    طرح کے ہوتے ہیں ، سراجیہ پھر ہندیہ میں ہے ایک عورت کے حمل کو سات مہینے ہوئے بچہ اس کے پیٹ میں حرکت کرتا تھا وہ مر گئی اور دفن کر دیا گیا پھر کسی نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ کہتی ہے میں نے بچہ جنا ہے تو قبر نہ کھودی جائے گی-"
( فتاوی رضویہ مترجم جلد  ۹  صفحہ  ٤٠٦ ) 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبــــہ؛
فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی عفی عنہ 
مورخہ: ٤ رجب المرجب ۱۴۴۳ ھجری یکشنبہ)
الجواب صحیح والمجیب نجیح
محمدشرف الدین رضوی ، شیخ الحدیث دارالعلوم حبیبیہ قادریہ، فیلخانہ، ہوڑہ ، کلکتہ
Previous Post Next Post