● (استفتاء)_السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ_ کیا قرض کے طور پر مدرسے کا پیسہ مسجد میں دے سکتے ہیں؟
(مستفتی):فضل الرحمن علیمی.
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ بعون الملک الوھاب● مدرسے کے پیسے کو بلا ضرورت بطورِ قرض بھی مسجد میں صرف، کرنے کی شرعاً اجازت نہیں. ہاں اگر اس وقت روپیہ کی کوئی سبیل نہیں ہے مگر اوقاف مدرسہ کی آمدنی جمع ہے، اور مدرسے کو اس وقت حاجت بھی نہیں تو بطورِ قرض مدرسے سے رقم لی جاسکتی ہے.
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:"أما المال الموقوف على المسجد الجامع إن لم تكن للمسجد حاجة للحال فللقاضي أن يصرف في ذلك لكن على وجه القرض، اھ."(ج،۲،ص:٤٦٤،دارالفکر بیروت)
ایسا ہی بہار شریعت حصہ دہم مسجد کے بیان میں بھی ہے.واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
۲۰/جمادیٰ الآخرة، ۱۴۴۳ھ دوشنبه
الجواب صحیح والمجیب نجیح!
عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا
Tags:
مسجد کا بیان