(استفتاء) _السلام عليكم ورحمةالله وبرکاتہ_ کیا فرماتے علماۓ دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید کو کچھ روپے پڑے ہوے ملے اب زید ان روپیوں کو مسجد میں دینا چاہتا ہے تو کیا ان روپیوں کو مسجد کے کام میں لانا جائز ہے یا نہیں؟
(مستفتی): محمد شمیم، امیٹھی، متعلم جامعة الرضا بریلی شریف
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابـــــــــــــــــــــــــــ حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:"جو مال کہیں پڑا ہوا ملے اور اس کا مالک معلوم نہ ہو اصطلاح شرع میں اسے لقطہ کہتے ہیں، اور لقطہ امانت کے حکم میں ہے، اٹھانے والے پر لازم ہے کہ لوگوں سے کہدے کہ جو کوئی گمی چیز تلاش کرتا ہوا ملے اسے میرے پاس بھیج دینا اور جہاں وہ چیز پائی ہو وہاں اور بازاروں میں اور شارع عام اور مسجدوں میں اعلان کرے، اگر مالک مل جائے تو اسے دیدیں ورنہ اتنا زمانہ گزرنے پر کہ ظنِّ غالب ہو جائے کہ اب اس کا مالک تلاش نہیں کرے گا اسے اختیار ہے کہ اس کی حفاظت کرے یا اگر خود مسکین ہے تو اپنے اوپر صرف کرے ورنہ صدقہ کردے، بہر کیف اگر وہ اشیاء کھانے یا پھل کی قسم سے ہے تو یہ گمان ہونے پر کہ اب رکھی رہے گی تو خراب ہو جائے گی تو وہ شخص خود اپنے صرف میں لا سکتا ہے یا غنی ہے تو فقیر کو تصدق کردے، پھر اگر مالک مل گیا اور وہ چیز صرف کر چکا ہے تو مالک کو اختیار ہے اس کے تصرف کو جائز کر دے تو مستحق ثواب ہوگا یا تاوان لے. درمختار میں ہے: فان اشھد علیه عرف ای نادی علءھا حیث وجدھا و فی المجامع الی ان علم ان صاحبھا لا یطلبھا او انھا تفسد ان بقیت کا لاطعمه والثمار کانت امانته فینتفع الرافع بھا لو فقیرا و الا تصدق بھا علی فقیر و لو علی اصله و فرعه و عرسه فان جاء مالکھا بعد التصدق خیر بین اجارۃ فعله و لو بعد ھلاکھا و له ثوابھا او تضمینه ھ۱ ملتقطا
اور غنی مال لقطہ کو مسجد میں نہیں صرف کر سکتا(فتاوی امجدیہ ج ۲ ص ۳۱٤)
اس عبارت سے ثابت ہوا کہ صورت مسئولہ میں جس کے پاس لقطہ کا پیسہ ہے اگر وہ غنی ہے تو مسجد میں نہیں دے سکتا اور نہ ہی اسے مسجد کے کام میں لایا جاسکتا ہے. ہاں اگر اس پیسے کو تصدق کردیا تو اب جسے تصدق کردیا وہ اس کا مالک ہوگیا اب وہ اسے مسجد میں دے یا دیگر نیک امور میں دے، پھر اسے خرچ کرنے میں حرج نہیں. واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانامفتی کہف الوری مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
Tags:
لقطہ کا بیان