(استفتاء) اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسألہ کے بارے میں کہ زید نے ہندہ کو طلاق دے دیا پھر زید نکاح کرنا چاہتا ہے تو حلالہ کے لیے بکر سے ہندہ نے نکاح کیا اور طلاق دے دیا پھر زید کا انتقال ہو گیا اور پھر بکر ہندہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو کیا حلالہ کے بغیر بکر ہندہ سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں.
(مستفتی):عزیزالرحمٰن علیمی یوپی انڈیا
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں بکر اور ہندہ اگر ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے پر راضی ہیں، یعنی میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اگر بکر نے ہندہ کو طلاق رجعی دی ہے تو عدت کے اندر رجعت کرسکتا ہے، یوں ہی اگر عدت گزر گئی ہو تو نئے سرے سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کرے اور طلاق بائن دیا ہےتب بھی نئے سرے سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کرے. اور اگر طلاق مغلظہ یعنی تین طلاق دیا ہے تو ہندہ بکر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک کسی اور سے نکاح نہ کرے اور شوہر جماع نہ کرلے، پھر نکاح کے بعد وہ شخص طلاق دے یا انتقال کر جائے اور عدت گزر جائے تو بکر اور ہندہ آپس میں نکاح کر سکتے ہیں.
اللہ عزوجل فرماتا ہے: اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ
ترجمہ طلاق (جس کے بعد رجعت ہو سکے )دوبار تک ہے پھربھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی(بھلائی،اچھائی،عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا۔
اور فرماتا ہے: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ(البقرۃ آیت/۲۳۰)
ترجمہ پھر اگر تیسری طلاق دی تو اس کے بعد وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے۔ پھر اگر دوسرے شوہر نے طلاق دے دی تو اُن دونوں پر گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں نکاح کرلیں۔ اگر یہ گمان ہو کہ اللہ (عزوجل) کے حدود کو قائم رکھیں گے اور یہ اللہ (عزوجل) کی حدیں ہیں، اُن لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے جو سمجھ دار ہیں. اللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
Tags:
طلاق کا بیان