*(اِسْتِـــفْتَاء)* السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی سجدے سے اٹھا اور بھول گیا کہ یہ کون سا سجدہ ہے پہلا یا دوسرا تو اس وقت اسے کیا کرنا چاہیے ؟
*(مُسْتَـــفْتِیْ):* *محمد وسیم اکرم انصاری انگس ، مغربی بنگال*
*وَعَلَيْـــــكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ*
*بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ*
*الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ* اگر بالغ ہونے کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے تو سلام پھیر کر یا کوئی عمل منافیٔ نماز کرکے توڑ دے اور اس نماز کو نیے سرے سے پڑھے. اور اگر یہ شک بہت بار ہو چکا ہے تو اگر غالب گمان کسی طرف ہو تو اس پر عمل کرے ورنہ کم کی جانب کو اختیار کرے، یعنی یہ مانے کہ اس نے ایک سجدہ کیا ہے اور ایک سجدہ اور کر لے. پھر سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد اگر اتنی دیر تک سوچتا رہا تھا جس میں ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کے مقدار تاخیر ہوگئی تو اس تاخیر کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا.
یہ حکم تعداد رکعت میں شک ہونے والے مسئلے سے مستفاد ہے جو درمختار میں ہے:*"(وَإِذَا شَكَّ) فِي صَلَاتِهِ (مَنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ) أَيْ الشَّكُّ (عَادَةً لَهُ) وَقِيلَ مَنْ لَمْ يَشُكَّ فِي صَلَاةٍ قَطُّ بَعْدَ بُلُوغِهِ وَعَلَيْهِ أَكْثَرُ الْمَشَايِخِ بَحْرٌ عَنْ الْخُلَاصَةِ (كَمْ صَلَّى اسْتَأْنَفَ) بِعَمَلٍ مُنَافٍ وَبِالسَّلَامِ قَاعِدًا أَوْلَى لِأَنَّهُ الْمَحَلُّ (وَإِنْ كَثُرَ) شَكُّهُ (عَمِلَ بِغَالِبِ ظَنِّهِ إنْ كَانَ) لَهُ ظَنٌّ لِلْحَرَجِ (وَإِلَّا أَخَذَ بِالْأَقَلِّ) لِتَيَقُّنِهِ (وَقَعَدَ فِي كُلِّ مَوْضِعٍ تَوَهَّمَهُ مَوْضِعَ قُعُودِهِ) وَلَوْ وَاجِبًا لِئَلَّا يَصِيرَ تَارِكًا فَرْضَ الْقُعُودِ أَوْ وَاجِبَهُ (وَ) اعْلَمْ أَنَّهُ (إذَا شَغَلَهُ ذَلِكَ) الشَّكُّ فَتَفَكَّرَ (قَدْرَ أَدَاءِ رُكْنٍ وَلَمْ يَشْتَغِلْ حَالَةَ الشَّكِّ بِقِرَاءَةٍ وَلَا تَسْبِيحٍ) ذَكَرَهُ فِي الذَّخِيرَةِ (وَجَبَ عَلَيْهِ سُجُودُ السَّهْوِ فِي) جَمِيعِ (صُوَرِ الشَّكِّ) سَوَاءٌ عَمِلَ بِالتَّحَرِّي أَوْ بَنَى عَلَى الْأَقَلِّ فَتْحٌ لِتَأْخِيرِ الرُّكْنِ، لَكِنْ فِي السِّرَاجِ أَنَّهُ يَسْجُدُ لِلسَّهْوِ فِي أَخْذِ الْأَقَلِّ مُطْلَقًا، وَفِي غَلَبَةِ الظَّنِّ إنْ تَفَكَّرَ قَدْرَ رُكْنٍ."*(کتاب الصلاۃ/باب سجود السہو). اور ایساہی بہار شریعت ح:٤، ص:٧٢٣ پر مذکور ہے. واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
*کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه: معصوم رضا نوری ارشدی، بلرام پور، یوپہ انڈیا.*
*30/نومبر//2022 بروز بدھ.*
*تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!*
*حضرت مولانامفتی رفیع اللہ قادری مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.*
*حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.*
*سنی رضوی دارلافتــاءـ*
Tags:
نماز کا بیان