وضو کی ابتداء کس نبی کے زمانے سے ہوئی؟

مسئلہ :- وضو کرنے کی ابتداء کس نبی کے زمانے سے ہوئی ؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
وضو کی ابتدا کس نبی کے زمانے سے ہوئی ہے، اس میں اختلاف ہے " 
جیسا کہ تفسیر روح البیان تحت آیت 
*یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ* الخ، 
میں مرقوم ہے، *حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام* سے شجرہ ممنوعہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے ہاتھ سے توڑا اور پاؤں سے اس کی طرف چلے اور فراغت پر سر پر ہاتھ رکھا تو الله تعالیٰ نے اعضاء کے دھونے کا حکم فرمایا تاکہ انسان کے جمیع گناہ دھل جائیں،
اور بعض مفسرین  نے فرمایا کہ ان اعضاء کا  دھونا صرف امت محمدیہ علی صاحبہ الصلاۃ والسلام سے مخصوص ہے، تاکہ قیامت میں باقی امتوں سے  ان اعضاء کے انوار کی  روشنی روشنی سے 
پ ۶  آیت ۶ ص ۱۲۳ مطبوعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور پاکستان ) 
اور اسی آیت کے تحت تفسیر مظہری جلد (۳) ص (۴۵) مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور کراچی میں ہے،
ابن عبد البر نے کہا تمام اہل مغاذی کے یہاں مشہور ہے کہ جب سے نماز فرض ہوئی آپ نے وضو کے بغیر کوئی نماز ادا نہیں کی اور وضو کی فرضیت نماز کے فرضیت کے ساتھ ہو گئی *عمل میں وضو اگرچہ پہلے سے موجود تھا* اس کے باوجود آیت کے نازل کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اس کا فرض عبارۃ النص سے بھی ثابت ہو جائے،
*نیز عطائین فی تفسیر جلالین میں ہے*
 کہ آیت وضو اجماعا مدنی ہے اور تمام اہل سیرت کا اس بات پر اجماع ہے کہ وضو اور غسل مکہ مکرمہ میں نماز کے ساتھ فرض ہو گئے تھے اور نبی پاک نے بغیر وضو کے کبھی نماز نہیں پڑھی *بلکہ ہم سے پہلی شریعتوں میں بھی وضو فرض تھا* اس کی دلیل سید عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مقدس نشان ہے، *هذا وضوئي و وضوء الأنبياء من قبلي* یہ میرا اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے،
اور حدیث شریف میں ہے راوی حضرت ابوھریرہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ ہیں ان سے مروی کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا *وضو فرمایا اور نماز ادا فرمائی* (ملخصا و مختصرا) (مسند احمد بن حنبل)
*دوسری حدیث میں ہے،* بنی اسرائیل کے ایک شخص نے جس کا نام خریج تھا جب انہیں کسی بدفعلی میں پھنسا دیا گیا اور جب وہ لاریب نکلے تو وضو کئے اور نماز ادا کی،
والله ور سولہ اعلم بالصواب 
۸ رجب المرجب ۱۴۴۴ ھجری
۳۱ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی منگل
Previous Post Next Post