*(اِسْتِـــفْتَاء)*_السلام علیکم حضرت!_ کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ دعا تعویذ کا پیسہ لوگوں سے منہ کھول کر مانگتا ہو اس کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس کے پیچھے نماز جائز ہے؟ جواب ارسال فرمائیں.
*(مُسْتَـــفْتِیْ): محمد دلکــش، ســیوان، بہار.*
*وَعَلَيْـــــكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ*
*بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ*
*الـــجـــوابـــــــــــــــــــــــــــ* حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:*"بہت سے لوگ تعویذ کامعاوضہ لیتے ہیں یہ جائز ہے، اس کو اجارہ کی حد میں داخل نہیں کیا جاسکتا، بلکہ بیع میں شمار کرناچاہیے، یعنی اُتنے پیسوں یا روپے میں اپنے تعویذ کو بیع کرتا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ تعویذ ایسا ہو کہ اُس میں شرعی قباحت نہ ہو، جیسے ادعیَّہ اور آیات، یا ان کے اعداد، یا کسی اسم کا نقش مظہر یا مضمر لکھا جائے، اور اگر اُس تعویذ میں ناجائز الفاظ لکھے ہوں یاشرک وکفر کے الفاظ پر مشتمل ہوتو ایسا تعویذ لکھنا بھی ناجائز ہے اور اس کا لینا اور باندھنا سب ناجائز. صاحب درمختار نے ردِّسحر کے تعویذ لکھنے پر اجارہ کو جائز فرمایا جبکہ مقدارِ کاغذ ومقدارِ تحریر معلوم ہوکہ اتنا کاغذ ہوگا اور اُس میں اتنی سطریں لکھی جائیں گی. مگر ظاہر یہ ہے کہ یہ اُس صورت میں ہوگا کہ جب اُس لکھوانے والے نے یہ کہا کہ فلاں چیز مجھے لکھ کر دے دو اور یہ طریقہ تعویذ دینے والوں کا نہیں ہے، بلکہ ناقلین کا ہوسکتا ہے؛ کیوں کہ کاغذ کی مقدار اورتحریر کے لحاظ سے اگر اُجرت ہوتی تو تعویذ کے چھوٹے بڑے ہونے کے اعتبار سے اُجرت میں اختلاف ہوتا، حالانکہ یہ نہیں بلکہ امراض اور تعویذ کے زود اثر ہونے کے اعتبار سے اس کی قیمتوں میں اختلاف ہوتا ہے، اسی وجہ سے پانچ پیسے اور پانچ روپے کے تعویذ میں تحریر و کاغذ کی مقدار میں فرق نہیں ہوتا، اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہاں اجارہ نہیں ہے. البتہ بیع کی صورت میں ایک خرابی یہ نظر آتی ہے کہ عموماً اُس وقت تعویذ موجود نہیں ہوتا بعد میں لکھا جاتا ہے، اور معدوم کی بیع درست نہیں. اس کا جواب یہ ہے کہ جب اُس نے تعویذ کی فرمائش کی اُس وقت بیع نہیں بلکہ لکھ لینے کے بعد بطورِ تعاطی بیع ہوگی اور یہ جائز ہے."*(بہار شریعت، ح: ۱٤، ص:۱٤۷، اجارۂ فاسد کا بیان، مکتبة المدینة)
اسی میں ہے:*"بیع تعاطی جو بغیر لفظی ایجاب و قبول کے محض چیز لے لینے اور دیدینے سے ہو جاتی ہے یہ صرف معمولی اشیا ساگ ترکاری وغیرہ کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ یہ بیع ہر قسم کی چیز نفیس وخسیس سب میں ہوسکتی ہے، اور جس طرح ایجاب و قبول سے بیع لازم ہو جاتی ہے یہاں بھی ثمن دیدینے اور چیز لے لینے کے بعد بیع لازم ہو جائے گی؛ کہ بغیر دوسرے کی رضا مندی کے ردکرنے کا کسی کو حق نہیں."*(ح:١١، ص:٦٢٨، مکتبة المدینة)
اسی میں ہے:*"اور (بیع) فعل سے ہو تو چیز کا لے لینا اور دے دینا اس کے ارکان ہیں، اور یہ فعل ایجاب و قبول کے قائم مقام ہو جاتاہے.مثلاً ترکاری وغیرہ کی گڈیاں بنا کر اکثر بیچنے والے رکھ دیتے ہیں اور ظاہر کر دیتے ہیں کہ پیسہ پیسہ کی گڈی ہے، خریدار آتاہے ایک پیسہ ڈال دیتا ہے اور ایک گڈی اٹھا لیتا ہے، طرفین باہم کوئی بات نہیں کرتے مگر دونوں کے فعل ایجاب و قبول کے قائم مقام شمار ہوتے ہیں، اور اس قسم کی بیع کو بیعِ تعاطی کہتے ہیں..."*(ح:١١، ص:٦٢١، مکتبة المدینة)
ان عبارتوں کی روشنی میں شخصِ مذکور اگر تعویذ پر پیسہ لیتا ہے تو اگر جائز تعویذ لکھے اور تعویذ کا پیسہ ظاہر کر دے، اور پھر تعویذ لینے والا پیسہ دے کر لے لے تو یہ بیعِ تعاطی ہوئی، لہٰذا اس طور پر پیسہ لینا جائز ہوا اور اس کے پیچھے نماز بھی جائز.
لیکن اگر ناجائز تعویذات بناتا ہے تو اس کا پیسہ لینا ناجائز ہے؛ لہذا اس صورت میں اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی. علامہ حصکفی علیہ الرحمہ فرما تے ہیں:*"کل صلوۃ ادیت مع کراھت التحر یم تجب اعادتھا"*(درمختار مع شامی، ج:١، کتاب الصلاۃ)
اسی طرح بہار شریعت میں ایک طویل حدیث شریف ذکر کرنے کے بعد صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:*"اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھاڑ پھونک کی اُجرت لینا جائز ہے، جبکہ کہ قرآن سے ہو یا ایسی دُعاؤں سے ہوجن میں ناجائز و باطل الفاظ نہ ہوں."*(ح:١٤، ص:١٠٧)واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَم.
*کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه: معصوم رضا نوری ارشدی، بلرام پور، یوپہ انڈیا.*
*19/نومبر//2022 بروز سنیچر*
*تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!*
*حضرت مولانامفتی جعفر رضامصباحی صاحب، گونڈہ یوپی،انڈیـــا.*
*حضرت مولانا مفتی شان محمد مصباحی صاحب، یوپی،انڈیـــا.*
*حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.*
*حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.*
*سنی رضوی دارلافتــاء*
Tags:
اجارہ کا بیان