السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں
ایک رکعت میں اگر دو سے زیادہ یا کم سجدہ کرنے کی صورت میں سجدہ سہو ہوگا یا نہیں؟
(سائل سید اسماعیل رضا جمبرگٹہ کرناٹک)
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
نماز کی ہر رکعت میں دوسجدے فرض ہیں ،
بھول کر دو سے زائد ہوجائیں تو سجدہ سہو سے نماز ہوجائے گی
بہار شریعت میں ہے،
*ض" ایک رکعت میں تین سجدے کیے یا دو رکوع یا قعدۂ اولیٰ بھول گیا تو سجدۂ سہو کرے۔ "
( حصہ سوم واجبات نماز)
لیکن اگر دو سے کم ہوجائے تو صرف سجدہ سہو سے نہیں بلکہ جو سجدہ ترک ہوا ہے اسے کرنے پر ہی نماز ہوگی یعنی وہ سجدہ بھی کرے جب یاد آجائے اور پھر آخر میں سجدہ سہو بھی کرے
در مختار مع شامی جلد دوم صفحہ ۱۵٦ میں ہے
" حتی لو نسی سجدۃ من الأولی قضاھا ولو بعد السلام قبل الکلام لکنہ یتشھد ثم یسجد للسھو ثم یتشھد لأنہ یبطل بالعود الی الصلبیۃ والتلاویۃ " اھ
اور بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۵۲۰ میں ہے
" ایک سجدہ کسی رکعت کا بھول گیا تو جب یاد آئے کرلے اگرچہ سلام کے بعد بشرطیکہ کوئی فعل منافی نہ صادر ہوا ہو اور سجدہ سہو کرے -"
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبــــہ؛
فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ
مورخہ:۱۴ رمضان المبارک ۱۴۴۳ ھجری)
الجواب صحیح والمجیب نجیح
محمد ہاشم رضا مصباحی ،کھرگون ، ایم پی
الحلقةالعلمیہ گروپ
Tags:
نماز کا بیان