کیا نابالغ بَچّوں سے قبر میں سوال ہوتا ہے؟


 (استفتاء)_السَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ_‎ کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام کہ کیا نابالغ بچے جن کا بچپن میں ہی انتقال ہوجاۓ ان سے بھی قبر میں سوال ہوتا ہے؟
(مستفتی):محمد ابوالحیات، کشن گنج، بہار.

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ 
الـــجـــوابـــــــــــــــــــــــــــ نابالغ بچوں کے سوالاتِ قبر کے بارے میں اختلاف ہے، حضرت علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے دو قول نقل کیا ہے. 
 پہلا قول:"بچوں سے بھی سوالات قبر ہوں گے، اس کی دلیل یہ ہے کہ حدیث شریف میں ہے، رسول پاک صاحب لولاک ﷺ نے ایک بچہ کی نماز جنازہ پڑھائی تو یہ دعا کی اے مولیٰ! اسے عذاب قبر سے بچانا(قوت القلوب/فصل الثانی والثلاثون، ۳۳۸/۱) 
حضرتِ سیدنا امام قرطبی نے بھی یہی قول نقل کیا ہے. وہ فرماتے ہیں: اس وقت ان کی عقل مکمل کردی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے مقام اور نیک بختی کو پہچان سکیں، اور سوالات کے جوابات بھی انھیں الہام کردئے جاتے ہیں.(التذکرۃ القرطبی باب الرد علی الملحد فصل الرابع ص ۱۲۳) 
 دوسرا قول:"مسلمانوں کے بچوں سے سوالات قبر نہیں ہوں گے؛ کیونکہ سوال تو اس سے ہوتا ہے جو اللہ ورسول کو پہچانتا ہو، تاکہ اس سے پوچھا جائے کیا وہ رسول پر ایمان لایا؟ ان کی اطاعت کی یا نہیں؟ اور ذکر کردہ حدیث کا جواب یہ ہے اس میں عذاب قبر سے مراد قبر کا عذاب ہے، نا کہ سوال بلکہ وہ تکلیف مراد ہے جو غم وحسرت اور وحشت کی وجہ سے ہوگی،  اور بچوں بڑوں سب کے لیے عام یہی قول صحیح و درست ہے. حضرت سیدنا امام محمد بن محمد نسفی علیہ الرحمہ نے  بحر الکلام میں فرمایا: انبیاء علیھم السلام اور مومنین کے بچوں سے حساب وکتاب نہ ہوگا، نہ عذاب قبر ہوگا اور نا ہی نکیرین کا سوال ہوگا.(شرح الصدور مترجم صفحہ ۲۷۴ / ۲۷۵ المدینۃ العلمیہ اور ایسا ہی مراۃ المناجیح شرح المشکوۃ المصابیح جلد دوم صفحہ ۵۰٤ / نعیمی کتب خانہ گجرات میں ہے) 
 نیز شامی میں ہے: كل ذي روح من بني آدم يسأل في القبر بإجماع أهل السنة لكن يلقن الرضيع الملك، وقيل لا بل يلهمه الله تعالى كما ألهم عيسى في المهد اهـ لكن في حكاية الإجماع نظر. فقد ذكر الحافظ ابن عبد البر أن الآثار دلت على أنه لا يكون إلا لمؤمن أو منافق ممن كان منسوبا إلى أهل القبلة بظاهر الشهادة دون الكافر الجاحد وتعقبه ابن القيم لكن رد عليه الحافظ السيوطي وقال ما قاله ابن عبد البر هو الأرجح ولا أقول سواه. ونقل العلقمي في شرحه على الجامع الصغير أن الراجح أيضا اختصاص السؤال بهذه الأمة خلافا لما استظهره ابن القيم ونقل أيضا عن الحافظ ابن حجر العسقلاني أن الذي يظهر اختصاص السؤال بالمكلف، وقال وتبعه عليه شيخنا يعني الحافظ السيوطي. مطلب ثمانية لا يسألون في قبورهم ثم ذكر أن من لا يسأل ثمانية: الشهيد، والمرابط، والمطعون، والميت زمن الطاعون بغيره إذا كان صابرا محتسبا، والصديق والأطفال، والميت يوم الجمعة أو ليلتها، والقارئ كل ليلة تبارك الملك وبعضهم ضم إليها السجدة والقارئ في مرض موته {قل هو الله أحد} [الإخلاص: 1] اهـ
 لہٰذا شامی اور مذکورہ بالا عبارات کا خلاصہ یہ نکلا کہ جو مسلم بچے نابالغ/غیر مکلف ہوں ان سے قبر کے سوالات نہیں ہونگے، اور اگر ہوں گے بھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں(جواب) تلقین کردیا جاتا ہے یا اللہ پاک انہیں الہام فرمادیتا ہے، جیساکہ سیدنا عیسی علیہ السلام کو مہد میں الہام کیا تھا، لہذا جب ان بچوں کی رہنمائی کردی جاتی ہے تو دونوں طرف کے اقوال میں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ دونوں کا ماٰل اور نتیجہ ایک ہی ہے.واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ. 

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
۱۹  شعبان المعظم  ۱۴۴۳ ھجری بروز چہار شنبه

 تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
 حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.

  سنی رضوی دارلافتــاء
Previous Post Next Post