قربانی کے دوسرے دن بکری نے بچہ جنا تو قربانی کا کیا حکم ہے؟


(استفتاء)_السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ_ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک بکری نے اس سال قربانی کے دوسرے دن بچہ جنا تو کیا اگلے سال اُس بچے کی قربانی جائز ہے؟
(مستفتی): (المستفتی: غلام احمد رضا باندہ، یوپی.

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*ض 
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ 
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ قربانی کے لیے بکرا، بکری کی عمر ایک سال گائے، بھینس کی عمر دوسال اور اونٹ کی عمر پانچ سال ہونا چا ہئے، اس سے ایک منٹ بھی کم ہوا تو قربا نی جائز نہیں. جیسا کہ  درمختارمیں ہے:"صح ابن خمس من الابل، وحولین من البقر والجاموس وحول من الشاۃ والمعز" یعنی پانچ سال کا اونٹ، دو سال کی گائے اور بھینس اور ایک سال کی بکری اور بھیڑ کی قربانی صحیح ہے. (درمختار/کتاب الاضحیۃ)
قربانی کے دوسرے دن سے مراد اگر یہ ہے کہ بکری نے گیارہ ذی الحجہ یا بارہ ذی الحجہ کو غروب آفتاب سے قبل بچہ جنا  تو اس کی قربانی جا ئز ہوگی، یعنی گیارہ ذی الحجہ کو جنا ہے تو بارہ کو قربانی کرے اور بارہ کو جنا ہے تو بچہ جننے کے وقت کے بعد ہی قربانی کرے، اس سے قبل جائز نہیں. چونکہ قربا نی کا وقت دس ذی الحجہ کے طلوعِ فجر سے بارہ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے . 
 جیسا کہ فتاوی عالمگیری  میں ہے:"وقت الاضحیۃ بعد طلوع الفجر من یوم النحر الیٰ غروب الشمس من الیوم الثانی عشر. ل"(ج:۵،ص:۲۹۵). واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ. 

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
19/جون//2022 بروز دوشنبه

 تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
 حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
 حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.

 سنی رضوی دارلافتـــاء
Previous Post Next Post