سننِ موکدہ پڑھے بغیر امامت کرنا کیسا ہے؟


 (استفتاء)_السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ_ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلے میں  
کہ امام صاحب ظہر کی نماز بغیر سنت پڑھے پڑھا دیتے ہیں، 
کیا اس طرح سے نماز پڑھانے میـں کوئ حرج تو نہیـــــں ہے؟ 
(مستفتی): محمد سلمان بدایوں شریف.
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ 
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ امام کا بلاعذر سنتِ مؤکدہ پڑھے بغیر امامت کرنا مکروہ (تنزیہی)ہے، اور بالکل ترک کردینے یعنی بعدِ فرض بھی نہ پڑھنے والے کے لیے وعید آئی ہے. 
جیساکہ حضور فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں:"کہ بلاعذر چار رکعت سنت مؤکدہ پڑھے بغیر ظہر فرض کی نماز پڑھانا مکروہ ہے. اور بالکل ترک کردینے یعنی بعد فرض بھی نہ پڑھنے والے کے لئے وعید آئی ہے، جیساکہ حدیث شریف میں ہے 'کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من ترک اربعا قبل الظہر  لم تنله  شفاعتی."
(فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ ٢٦٢)
اسی طرح حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فتاویٰ امجدیہ میں تحریر فرماتے ہیں:"اگر اتنا وقت باقی ہے کہ سنّت کے پڑھنے کے بعد فرض ادا کرلے گا تو سنّتوں کے پڑھنے کے بعد فرض نماز پڑھے فجر کی سنتوں کا تاَکُّد بہت زیادہ ہے، یہاں تک کہ قریب بوجوب ہے، بلکہ بعض فقہا اس کے وجوب کے قائل ہیں اگر سنت فجر بغیر پڑھے ہوئے امامت کرے تو اس کا ترک لازم آئے گا، اب اس کی قضا بھی نہیں، اور بلا شبہ بغیر عذر سنت کا ترک اساءت ہے اور ظہر کی سنت اگرچہ بعد فرض پڑھ لیگا مگر بلا عزر  اس کو اس کی جگہ سے ہٹانا بھی برا ہے کہ سنت قبلیہ میں اصل سنت یہی ہے کہ وہ فرض سے قبل پڑھی جائیں، جماعت قائم ہو چکنے کے بعد مقتدی کا جماعت میں مشغول ہونا اور سنت کا موخّر کرنا عذر شرعی کی وجہ سے ہے، مگر  بلاوجہ امام کا سنّت کا موخّر کرنا سنّت کے خلاف ہے."(جلد اول صفحہ ۲۰۰ باب وتر والنوافل ) 
اسی طرح  بہار شریعت حصہ بستم  کے مصنف  مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:*"ان دونوں وقتوں میں فجر و ظہر  کی سنتیں سنت موکدہ ہیں ان کو قصداً  (جان بوجھ کر)  ترک کرنا   (یعنی  فرض کے بعد بھی نہ پڑھنا) گناہ ہے، لہذا امام مقتدیوں سے کہہ دے کہ اتنا انتظار کریں کہ میں سنتیں پڑھ لوں محض وقت کی پابندی کرنے کے لئے چھوڑ کر امامت کروانا جائز نہیں."
(وقار الفتاویٰ جلد دوم  صفحہ ۱۸۸)واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ. 

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
۸   شعبان المعظم  ۱۴۴۳ ھجری بروز شنبه

 تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
 حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
 حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیــا

 سنی رضوی دارلافتــاءـ
Previous Post Next Post