(استفتاء)_السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ_ کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان کرام اس سوال کے جواب میں کہ فجر اور عصر نماز ادا کرنے بعد ان نمازوں کے اوقات میں عمر قضاء نمازیں کا ادا کرنا کیسا؟
(مستفتی):اکبر رضا اشرفی گلبرگہ شریف (شہر حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز سید محمد محمد الحسینی چشتی علیہ الرحمہ)
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ فجر اور عصر کی نماز کے بعد مطلقاً تمام قضا نمازیں ادا کرنا جائز ہے. البتہ طلوعِ آفتاب، عین زوالِ آفتاب اور جب سورج زردی مائل ہو جاتا ہے (یعنی جب سورج غروب ہونے میں بیس منٹ باقی) ہو اس وقت سے لے کر غروب آفتاب تک یہ تینوں اوقاتِ مکروہہ ہیں، ان اوقات میں قضا نمازیں ادا کرنا جائز نہیں.
در مختار مع شامی جلد دوم صفحہ ۵۲۴ مطبوعہ دار عالم الکتب میں ہے:
وَجَمِيعُ أَوْقَاتِ الْعُمْرِ وَقْتٌ لِلْقَضَاءِ إلَّا الثَّلَاثَةَ الْمَنْهِيَّةَ كَمَا مَرَّ،( قَوْلُهُ:إلَّا الثَّلَاثَةَ الْمَنْهِيَّةَ ) وَهِيَ الطُّلُوعُ وَالِاسْتِوَاءُ وَالْغُرُوبُ اھ"
اور بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ ۷۰۷ میں ہے:"قضا کے لیے کوئی وقت معین نہیں عمر میں جب پڑھے گا بریٔ الذّمہ ہو جائے گا، مگر طلوع و غروب اور زوال کے وقت کہ ان وقتوں میں نماز جائز نہیں."
واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
۷ شعبان المعظم ۱۴۴۳ ھجری بروز جمعہ مبارک
تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
سنی رضوی دارلافتــاء
Tags:
نماز کا بیان