(استفتاء) السلام علیکم کیا ایک بہن اپنی دوسری بہن کو زکوۃ دے سکتی ہے جبکہ بہن شرعی فقیر ہے لیکن ان کی والدہ شرعی فقیر نہیں ہے ل. جواب عطا فرمادیں بحوالہ
(مستفتی):مستفتی عبداللہ کراچی
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ:● صورت مسئولہ میں بہن کو زکٰوۃ دینا جائز بلکہ افضل ہے، جیسا کہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:زکاۃ وغیرہ صدقات میں افضل یہ ہے کہ اوّلاً اپنے بھائیوں بہنوں کو دے پھر اُن کی اولاد کو پھر چچا اور پھوپیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ماموں اور خالہ کو پھر اُن کی اولاد کو پھر ذوی الارحام یعنی رشتہ والوں کو پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے شہر یا گاؤں کے رہنے والوں کو.(بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ ۹۳۹ زکوۃ کا بیان)
اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ ۱۹۰ میں ہے: والافضل فی الزکوۃ والفطر والنذور الصرف اولا الاخوۃ والاخوات ثم الی اولادھم ثم الی الاعمام والعمات ثم الی اولادھم ثم الی الاخوال والخالات ثم الی اولادھم ثم الی ذوی الارحام ثم الی الجیران ثم الی اھل حرفتہ ثم الی اھل مصرہ او قریتہ کذا فی السراج الوھاج.اھ واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
۱۸ /رجب المرجب ۱۴۴۳ھ یکشنبه
تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
Tags:
زکاۃ کا بیان