(استفتاء) _السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ_ علماے کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ منفرد اگر بلند آواز سے قرات کرنا چاہیے تو عشاء کی چاروں رکعتوں میں کرسکتا ہے یا صرف دو میں کرسکتا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں!
(مستفتی):مستفتی عمران عطاری پاکستان
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابـــــــــــــــــــــــــــ ظہر اور عصر کی سب رکعتوں میں، مغرب کی تیسری رکعت میں، اور عشاء کی آخری دورکعتوں میں امام و منفرد سب کو سر (آہستہ) قراءت کرنا واجب ہے.
لہٰذا منفر عشاکی پہلی دو رکعت میں بلند آواز سے قراءت کر سکتا ہے، جبــکہ آخری دو رکعت میں آہستہ ہی قراءت کرےگا.
حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی الله تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:"ردالمحتار میں ہے:*الاسرار یجب علی الامام والمنفرد فیما یسرفیہ وھو صلٰوۃ الظھر والعصر و الثالثۃ من المغرب والاخریان من العشاء و صلاۃ الکسوف والاستسقاء کما فی البحر۲؎۔الخ) سری نمازوں میں امام منفرد دونوں پر اسرار(سراً قرأت) واجب ہے اور نماز ظہر، عصر، مغرب کی تیسری رکعت ،عشاء کی آخری دوکعت، نمازکسوف اور نماز استسقاء ہیں۔ جیسا کہ بحر میں ہے. (فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ششم صفحہ ۲۵۱)
منفرد کو جہری نماز میں اختیار ہے سری قرأت کرے یا جہری البتہ منفرد کو بھی سری میں سر سے قرأت کرنا واجب ہے. جیسا کہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: *منفرد نے سِرّی نماز میں جہر سے پڑھا تو سجدہ واجب ہے اور جہری میں آہستہ تو نہیں۔(بہار شریعت ح چہارم صفحہ ۷۱۹ سجدۂ سہو کا بیان) واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه: محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
حضرت مولانامفتی رفیع اللہ قادری مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانامفتی کہف الوری مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
سنی رضوی دارلافتــاء
Tags:
نماز کا بیان