(استفتاء) _السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ_ علماء کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ حد رکوع کی طرح مصافحہ کرنا جب کہ بوسہ دینا مقصود نہ ہو تو کیا یہ عمل جائز ہے؟
(مستفتی): مستفتی عمران عطاری پاکستان
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابـــــــــــــــــــــــــــ ہاتھ یا پاؤں چومنے کے لیے اس قدر جھکنا جائز ہے کہ یہ چومنے کے لیے جھکنا ہے اور صرف تعظیم یا مصافحہ کے واسطے حدِّ رکوع تک جھکے تو یہ ناجائز ہے؛کیونکہ بطورِ تعظیم کسی مخلوق کے لیے اس قدر جھکنا یا اس کے لیے سجدہ تعظیمی کرنا قطعاً جائز نہیں بلکہ حرام وگناہ.
حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : *انحناء یعنی جھکنا دو قسم ہے مقصود و وسیلہ اگر خود نفسِ انحناء سے تعظیم مقصود نہیں بلکہ دوسرے فعل سے جس کا یہ ذریعہ ہے تو اس صورت میں اس کا حکم اس فعل کا حکم ہوگا قدمبوسی جائز بلکہ مسنون ہے تو اس کے لیے جھکنا بھی مباح بلکہ سنت ہے اور غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی حرام ہے دوسری قسم کہ نفسِ انحناء سے تعظیم مقصود ہو یہ اگر رکوع تک ہے ناجائز و گناہ ہے اور اس سے کم ہے تو حرج نہیں.
امام عبدالغنی نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں: الانحناء البالغ حد الرکوع لایفعل لاحد کالسجود ولابأس بمانقص من حد الرکوع لمن یکرم من اھل الاسلام
یعنی رکوع کی حد تک جھکنا کسی کے لئے نہ کیا جائے جیسے (تعظیمی) سجدہ (یعنی یہ دونوں مخلوق کے لئے جائز نہیں ہیں) اور اگر رکوع کی حد سے کم جھکاؤ ہو تو پھر معزز اہل اسلام کے لئے ایسا کرنے میں کچھ حرج نہیں ہے.(فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 550رضا فاؤنڈیشن لاہور)
حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:ملاقات کے وقت جھکنا منع ہے یعنی اتنا جھکنا کہ حدِ رکوع تک ہو جائے.(بہارشریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 473 مکتبۃ المدینہ) واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه: محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
حضرت مولانامفتی رفیع اللہ قادری مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانامفتی کہف الوری مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
سنی رضوی دارلافتــاء
Tags:
بوسہ کا بیان