*(استفتاء)*_اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ_ حضرات سوال یہ ہے کہ میرے دوست کی بیوی کا انتقال ہو گیا ہے، اس کی بیوی جو نتھنی(زیور) پہنے ہوٸی تھی میرا دوست اسے مسجد میں دینا چاہتا ہے، تو کیا وہ دے سکتا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب عنایت فرمائیں، کرم ہوگا. محمد کلیم رضا بنارسی
*(مستفتی): محمد کلیم رضا، بنارسی*
*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ*
*بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ*
*الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ* اگر وہ نتھنی اس عورت کی اپنی ملکیت تھی یا وہ مہر میں شامل تھی تو مسجد میں دینے کی اجازت نہیں؛ کیونکہ جب عورت انتقال کر گئی تو اب یہ اس کا ترکہ ہے جو اس کے وارثین کا حق ہے، ایسا ہی فتاوی امجدیہ، ج:۲، ص:۱۴۸) پر ہے.
اور بدائع الصنائع میں ہے:*"لا یقسط عن الزوج شئی من المھر بل یتأکید المھر والمھر فی تلک الحالۃ ملک الورثۃ..."*(ج:۲،ص: ۵۸۹)
یعنی عورت کے انتقال کے بعد مہر وارثین کا حق ہوگا.___لہٰذا عورت اگر اولاد چھوڑ کر فوت ہوئی ہے تو مہر کا چوتھائی حصہ شوہر کا ہے، ورنہ آدھا اس کا ہے. اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے:*"ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع ھ۱*(سورۂ نساء، پ:۴،آیت ۱۲). اور مابقی مہر عورت کے دیگر ورثہ کا ہوگا، شوہر انہیں ان کے حصے کے مطابق پہنچا دے تو وہ بری الذمہ ہوجائےگا.
اور میت کے سب ورثہ بالغ ہوں اور سب کی اجازت ہو تبھی اس زیور کا صدقہ درست ہو گا. لیکن کسی بالغ کی اجازت نہ ہو یا کوئی نابالغ ہو تو صدقہ درست نہیں. ہاں کوئی وارث اپنے حصے کا صدقہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے. ایسا ہی بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم کفن کے بیان میں ہے.
فتاوی ہندیہ میں ہے:*"(فَمِنْهَا الْعَقْلُ وَالْبُلُوغُ) فَلَا يَصِحُّ الْوَقْفُ مِنْ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ كَذَا فِي الْبَدَائِعِ. صَبِيٌّ مَحْجُورٌ عَلَيْهِ وَقَفَ أَرْضًا لَهُ فَقَالَ الْفَقِيهُ أَبُو بَكْرٍ: وَقْفُهُ بَاطِلٌ إلَّا بِإِذْنِ الْقَاضِي وَقَالَ الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ: وَقْفُهُ بَاطِلٌ وَإِنْ أَذِنَ لَهُ الْقَاضِي؛ لِأَنَّهُ تَبَرُّعٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ."*(کتاب الوقف/الباب الاول...)
البتہ اگر اس زیور کی مالک عورت نہیں بلکہ کوئی دوسرا تھا، تو اس کے صدقہ کا اختیار اس کے مالک کو ہے نہ کہ شوہر کو. واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ.
*کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه:معصوم رضا نوری ارشدی، بلرام پور، یوپہ انڈیا.* *اکتوبر/18//2022 بروز.*
*تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!*
*حضرت مولانا مفتی سفیان احمد مصباحی صاحب، گونڈہ،یوپی،انڈیا.*
*حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.*
*سنی رضوی دارلافتـــاء*
Tags:
مسجد کا بیان