شریعت کی روشنی میں عـــــالم کسے کہتے ہیں؟



 *(استفتاء)*_السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ_ علمائے کرام ومفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ زید ایک غریب گھرانے سے ہے جو مدرسہ پڑھا کرتے تھے، اب زید غریبی کی وجہ سے جماعت ثالثہ یا رابعہ پڑھ کر دستار بندی لیے. کیا زید کو عالم بول سکتے ہیں؟ جبکہ زید کی قرأت بھی اچھی ہے، بیانات بھی کرتے ہیں، اور ضروریات دین کے مسائل خود حل کر سکتے ہیں. برائے کرم جواب عطا کرکے شکریہ کا موقع دیں. 
*(مستفتی): محمد رحیط رضا رضوی، دارجلنگوی بنگال.*

*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎* 
*بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ* 
*الـــجـــوابـــــــــــــــــــــــــــ* صورت مسئولہ میں زید کو عالم بول سکتے ہیں؛ کیونکہ عالم ہونے کے جو شرائط امام اہل سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے بیان فرمائے ہیں وہ ساری چیزیں زید کے اندر پائی جارہی ہیں، اس لیے زید کو عالم بولنے میں حرج نہیں. 
 حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:*"عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو، اور مُستقِل ہو اور اپنی ضَروریات کو کتاب سے نکال سکے بِغیر کسی کی مدد کے. علم کتابوں کےمُطالَعَہ سے اور عُلَماء سے سُن سُن کر بھی حاصِل ہو تا ہے."*(اَحکامِ شریعت، ح:۲، ص:۲۳۱)
 لہٰــذا معلوم ہوا کہ عالم ہونے کےلیے درسِ نظامی کی تکمیل کی سند ضَروری ہے نہ ہی کافی، نہ ہی عَرَبی فارسی وغیرہ کا جاننا شرط، بلکہ علم درکار ہے. 
 جیسا کہ حضو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محقق بریلوی  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:*"سند کوئی چیز نہیں، بُہتیَرے سَنَد یافتہ مَحض بے بَہرہ (یعنی علْمِ دین سے خالی) ہوتے ہیں، اور جنہوں نے سند نہ لی اِن کی شاگردی کی لیاقت بھی اُن سَنَد یافتوں میں نہیں ہوتی، عِلْم ہونا چاہئے."*(فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص۶۸۳، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ. 

*کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه: معصوم رضا نوری ارشدی، بلرام پور، یوپہ انڈیا.*
*٦/ربیع الثانی، ۱۴۴۴ ھجری.*
*۲/نومبر، ۲۰۲۲ع، چہار شنبہ. مطابق اکتوبر/18//2022 بروز.*

 *تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!*
 *حضرت مولانامفتی رفیع اللہ قادری مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.*
 *حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.*
 *حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.*

 *سنی رضوی دارلافتــاءـ*
Previous Post Next Post