مسئله:- زید بیمار تھا اور بیماری کی ہی حالت میں دنیا سے فوت ہوا لیکن زید کی بیوی حمل سے ہے تو زید کی بعد وفات کتنے دن عدت گزارے گی اور نیز زید کتنے دن کے بعد نکاح کر سکتی ہے؟
بِسمِ ﷲِ اْلْـــرَّحْمٰنِ اْلْـرَّحِـــیْم
الجواب بعون الملک الوھاب:
زید کی بیوی وضع حمل تک عدت گزارے گی اور وضع حمل کے بعد ہی نکاح کر سکتی ہے جیسا کہ امام المؤمنین فی الحدیث سید الفقہاء حضرت الامام ابو عبداللّٰه محمد بن اسماعیل بخاری رضی ﷲعنہ بخاری شریف بخاری شریف جلد ششم، صفحه، ۱۰۴میں تحریر فرماتے ہیں:
حدثنا حبان حدثنا حدثنا عبداللّٰه، اخبرنا عبداللّٰه بن عون، عن محمد بن سیرین قال: جلست الیٰ مجلس فیه عظمٌ من الانصار وفیھم عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ فذکرۃ حدیث عبداللّٰه بن عتبۃ فی شان سبیعۃ بنت الحارث فقال عبدالرحمٰن: ولکن عمه کان لا یقول ذالک فقلت انی لجریءٌ ان کذبت علیٰ رجل فی جانب الکوفۃ ورفع صوته، قال: ثم خرجت فلیقت مالک بن عامر او مالک بن عوف قلت: کیف کان قول بن مسعود فی المتوفی عنھا زوجھا وھی حامل؟ فقال: قال بن مسعود أتجعلون علیھا التغلیظ ولا تجعلون لھا الرخصۃ؟ لنزلت سورۃ النساء القصری بعد الطولَی وقال ایوب: عن محمد لقیت ابا عطیۃ مالک بن عامر۰
ترجمه ہم سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللّٰه بن مبارک نے، کہا ہم کو عبداللّٰه بن عون نے خبر دی، ان کے محمد بن سیریننے بیانکیا، کہ میں انصار کی ایک مجلس میں حاضر ہوا- بڑے بڑے انصار وہاں موجود تھے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی موجود تھے میں نے وہاں سبیعہ بنت حارث کے باب سے متعلق عبداللّٰه بن عتبہ کی حدیث کا ذکر کیا- عبدالرحمٰن نے کہا لیکن عبداللّٰه بن عتبۃ کے چچا (عبداللّٰه ابن مسعود رضی ﷲعنہ)ایسا نہیں کہتے تھے(محمد بن سیرین نے کہا) کہ میں نے کہا کہ پھر تو میں نے ایک ایسے بزرگ عبداللّٰه بن عتبہ کے متعلق جھوٹ بولنے میں دلیری کی ہے کہ جو کوفہ میں ابھی زندہ موجود ہیں میرے آواز بلند ہو گئی تھی اب سیریننے کہا کہ پھر جب میں باہر نکلا تو راستے میں مالک بن عامر یا مالک بن عوف سے میری ملاقات ہوگئی(راوی کو شک ہے یہ ابن مسعود رضی ﷲعنہ کے رفیقوں میں سے تھے) میں نے انسے پوچھا کہ جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے اور وہ حمل سے ہو تو ابن مسعود رضی ﷲعنہ اسکی عدت کے متعلق کیا فتویٰ دیتے تھے؟ انہوں نے کہا ابن مسعود رضی ﷲعنہ کہتے کہ تم لوگ اس حاملہ پر سختی کے متعلق کیوں سوچتے ہو اس پر آسانی نہیں کرتے اس کو لمبی عدت کا حکم دیتے ہو سورۂ نساء چھوٹی سورۂ طلاق لمبی سورۂ نساء کے بعد نازل ہوئی ہے اور ابو ایوب سختیانی نے بیان کیا ان سے محمد بن سیرین نے کہ میں ابو عطیہ مالک بن عامر سے مِلا،
مختصر تشریح سورۃ نساء کو چھوٹی سورۂ طلاق کہا گیا ہے اور سورۂ نساء کو بڑی سورۂ نساء قرار دیا گیا ہے اور سورۂ طلاق میں اللّٰه تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے (والات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن) سورۂ طلاق ۴ تو حاملہ عورتیں سورۂ نساء میں خاص کر لی گئیں
تو اس سے معلوم ہوا کہ حضرتِ عبداللّٰه بن مسعود رضی ﷲعنہ کا مذہب بھی حاملہ عورت کی عدت میں یہی تھا کہ وضع حمل سے اس کی عدت پوری ہوجاتی ہے اور روایت مذکورہ میں سبیعہ کا قصہ یہ ہے کہ جب سبیعہ کا خاوند سعد بن خولہ مکہ میں مر گیا تو اس وقت سبیعہ حاملہ تھی خاوند کے انتقال کے چند روز بعد وہ بچہ جنے اور ابو انسابل نے اس سے نکاح کرنا چاہا اس نےحضور ﷺ سے مسئله پوچھا تو آپ ﷺ نے اس کو نکاح کی اجازت دے دی- معلوم ہوا حاملہ کی عدت وضع حمل سے گزر جاتی ہے اور حضرتِ عبداللّٰه بن مسعود رضی ﷲعنہ کا یہی قول تھا کہ حاملہ بھی عدت کرے گی اگرچہ حمل میں چار مہینے دس دن باقی ہوں تو اس مدت تک اور اگر زیادہ عرصہ باقی ہو تو وضع حمل تک انتظار کرے-
اور اسی حدیث شریف کے تحت حضور صدر الشریعہ علیه الرحمه بھی بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں:
کہ حمل والی کی عدت چار مہینہ دس دن نہیں بلکہ وضع حمل ہے،
جب تک حاملہ حمل کے فارغ نہ ہو جاۓ وہ دوسرا نکاح نہیں کر سکتی-
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
بہار شریعت جلد ہفتم صفحه۲۳۳، عدت کا بیان
۱۴ رجب المرجب شریف ۱۴۴۴ھجری
۶ فروری ۲۰۲۳عیسوی بروز دوشنبہ ــــــــــ پیر شریف
Tags:
عدت کا بیان