الله تعالیٰ کی طرف بھولنے کی نسبت کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:- یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ بھول گیا یعنی الله تعالیٰ کی طرف بھولنے کی نسبت کرنا شرعاً کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 صورت مسئولہ میں حقیقی معنیٰ کفر ہے مگر بھولنے کے معنیٰ میں مہربانی نہ کرنا بھی آتا ہے اس لیے بھولنے کی نسبت الله کی طرف کرنے کو مطلقاً کفر نہیں کہیں گے  مگر ناجائز ضرور ہے ، 
جیسا کہ شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ سے ایک شعر کے بارے میں سوال ہوا  شعر یہ ہے
 رحم کر نہ اپنے آئینے کرم کو بھول جا
 ہم تجھے بھولے ہوئے ہیں تم نہ ہم کو بھول جا
تو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا اس شعر کا پڑھنا ہرگز جائز نہیں
بھول جانے کی نسبت الله عزوجل کی  طرف کرنا کفر ہے۔اس کو جہل لازم ہےاور غفلت بھی ﷲ عزوجل اس سے منزہ ہے لیکن اردو میں اس کا معنی مہربانی نہ کرنا بھی آتا ہے اور مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنا لازم،اس لیے اس کے کلام کو اچھے محل پر حمل کرنا ضروری اس لیے بطور حسن ظن یہی کہیں کہ مراد مہربانی نہ کرنا ہی ہے، مگر جب اس کا حقیقی معنی کفر ہے تو اچھے معنی مراد لے کر بھی ﷲ تعالیٰ پر اس کا اطلاق جائز نہیں ہوگا۔ علما نے لکھا ہے: ”مجرد ایھام المعنی کاف للمنع“ (فتاویٰ شارح بخاری جلد اول صفحہ  ۲۴۵) 
وﷲ تعالیٰ اعلم
۲۴ رجب المرجب ۱۴۴۴ ھجری
۱۶ فروری ۲۰۲۳ عیسوی پنجشنبہ
Previous Post Next Post