مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کرنا کیسا؟

مسئلہ؛-خالد نے بکر کی ماں سے زنا کیا اور پانچ سال کے بعد بکر کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو کیا یہ نکاح شرعاً جائز ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الجواب بعون الملک الوھاب
مذکورہ نکاح شرعاً جائز نہیں کیوں کہ  جس عورت کے ساتھ زنا کیا اس عورت کی ماں اور بیٹی زانی پر حرام ہوجاتی ہیں،   
حضرت علامہ امام علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی ۵۹۳ ھ فرماتے ہیں
"من زنا بامرأۃ حرمت علیہ امھا وبنتها" 
جس نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہوگئی
(الھدایۃ کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات ،جلد ١ صفحہ ١٨٧)
اور علامہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ ھ  فرماتے ہیں: 
"وطی سے مطلقاً حرمت ثابت ہو جاتی ہے،خواہ وطی حلال ہو یا شبہہ و زنا سے، مثلاً بیع فاسد سے خریدی ہوئی کنیز سے یا کنیزِ مشترک یا مکاتبہ یا جس عورت سے ظہار کیا یا مجوسیہ باندی یا اپنی زوجہ سے حیض و نفاس میں یا احرام و روزہ میں غرض کسی طور پر وطی ہو حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی لہٰذا جس عورت سے زنا کیااس کی ماں اور لڑکیاں اس پر حرام ہیں یوہیں وہ عورت زانیہ اس شخص کے باپ ،دادا اور بیٹوں پر حرام ہو جاتی ہے "
(بہار شریعت جلد دوم حصہ ٧ صفحہ ٢٤، محرمات کا بیان) 
والله تعالى اعلم
۲۲ رجب المرجب ۱۴۴۴ ھجری
۱۴ فروری ۲۰۲۲ عیسوی سہ شنبہ
Previous Post Next Post