بچے کی ولادت ہوئی نفاس کا خون تھوڑا سا آیا پھر بند ہوگیا پھر چالیسویں دن آیا تو کیا حکم ہے؟

مسئله:-    عورت کو بچے کی ولادت کے بعد نفاس کا خون دو منٹ تک آیا اور اس کے بعد آنا بند ہو گیا یہاں تک کہ بیچ ایام میں بھی خون نہ آیا اور عورت بگمانِ طہارت غسل کرکے نماز پڑھتی رہی لیکن چالیسواں دن پورا ہونے میں آدھا گھنٹہ باقی تھا کہ نفاس کا خون آ گیا اب وہ عورت بعد پاک ہونے کے کیا کرے جو نماز پڑھی تھی اسکا اعادہ کیا یا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں؟
بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمْ
الجواب بعون الملک الوھاب:
بچے کی ولادت کے بعد نفاس کا خون دو منٹ تک آیا اور اس کے بعد بند ہو گیا اگرچہ بیچ ایام میں خون نہ آیا اور چالیسویں روز خون آگیا تو اب وہ سارے ایام نفاس میں گِنے جائیں گے اور بعد پاک ہونے کے جو نماز پڑھی تھی اسکا اعادہ کرے ، 
اسی طرح ایک سوال کے جواب میں حضور سیدی وسندی‌آقائی و مولائی سرکار اعلیٰ حضرت رضی ﷲ عنہ فتاویٰ رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں:
نفاس کا خون چالیس دن کے اندر عود کرے شروع ولادت سے ختم خون تک سب دن نفاس کے ہی گِنے جائیں گے جو دن بیچ میں خالی رہ گیۓ وہ بھی نفاس ہی میں شمار کیۓ جائیں گے مثلاً ولادت کے بعد دو منٹ تک خون آکر بند ہو گیا اور بگمانِ طہارت غسل کرکے نماز روزہ وغیرہ کرتے رہی اور چالیس دن ابھی پورا ہونے میں دو منٹ باقی تھے  کہ خون آگیا تو یہ سارا چلَّه نفاس ہی میں ٹھہرے گا نمازیں روزہ سب بیکار گئیں فرض یا واجب یا روزے یا قضا نمازیں جو پڑھی ہوں پھر پھیرے-
اور ردالمختار میں ہے 
فی ردالمختار ان من اصل الامام ان الدم اذا کان فی الاربعین فالطھر المتخلل لا یفصل طال او قمر حتیٰ لم رأت ساعۃ دما و اربعین الا ساعتین طھرا ثم ساعۃ وماکان الاربعون کلھا نفاسا علیہ الفتوىٰ کذا فی الخلاصۃ¹ نہر، واللّٰه تعالیٰ اعلم وعلمه جل مجدہ اتم واحکم-
ترجمه:-    ردالمختار میں ہے:" امام اعظم رضی ﷲعنہ کے ہاں ضابطہ یہ ہے کہ جب خون چالیس دنوں میں ہو تو طور متخلل فاصل نہیں ہوگا وقت زیادہ ہو یا کم حتی کہ  اگر عورت ایک ساعت خون دیکھا پھر دو ساعتیں کم چالیس دن پاک رہی پھر ایک ساعت خون دیکھا  تو پورے چالیس دن نفاس کے شمار ہوں گے اور اسی پر فتویٰ ہے خلاصہ میں اسی طرح ہے نہر،
(فتاویٰ رضویہ مترجم جلد چہارم صفحہ ۳۵۵) 
واللّٰه تعالیٰ اعلم ورسولہ اعلم بالصواب
۲۷ رجب المرجب شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱۹ فروری ۲۰۲۳ عیسوی بروز یکشنبه ــــــــــــــــــ اتوار
Previous Post Next Post