زمین کے چکر میں دو لوگوں کا جھگڑا ہوا اور، ایک نے دوسرے کو قتل کردیا تو شہید کو کو کہیں گے؟

مسئله:-    زید اور خالد میں جھگڑا ہوا اس بات پر زید کی زمین خالد زبراً چھیننا چاہتا ہے اور خالد نے جھگڑے کی تناظر میں زید کا ناحق قتل کر دیا تو زید کی موت شہادت کی ہوگی یا عام مردوں کی طرح مانی جاۓ گی؟
بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمْ
الـــجواب بعــون الملک الوھــاب 
صورتِ مسئوله میں   زید کی موت شہادت کی ہوگی اور ناحق کسی کا قتل کرنا یہ  جرم ہے یعنی کسی کو ناحق قتل کرنے والا جہنمی ہے
جیساکہ حدیث شریف میں ہے: حَدَّثنَی اَبُو کُرَیبٍ مُحَمَّدُبنُ اْلْعَلاَءِ قَالَ ثَنَا خَالِدٌ یَعنِی بْنَ مَخلَدٍ نَا مُحَمَّدُبنُ جَعفَرٍ عَنِ اْلْعَلَاءِبْنِ عَبْدِاْلْرَّحْمٰنِ عَنْ اَبِیهِ عَنْ اَبِی ھُرَیرَۃَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُولُ ﷲِﷺ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰهِﷺ اَرَاَیْتَ اِنْ جَاءَ رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَخذَ مَالِیْ قَالَ فَلَا تُعْطِهٖ مَالَکَ قَالَ اَرَاَیْتَ اِنْ قَتَلَنِیْ قَالَ قَاتِلهُ قَالَ اَرَاَیْتَ اِنْ قَتَلَنِیْ قَالَ فَاَنْتَ شَھِیْدٌ قَالَ اَرَاَیْتَ اِنْ قَتَلْتُهٗ قَالَ فَھُوَ فِی اْلْنَّارْ۰ {مسلم تحفۃ الاشراف ۱۴۰۸۸} 
ترجمه ) حضرتِ ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲﷺ کی خدمت{یعنی بارگاہِ اقدس} میں ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھا یا رسول اللّٰهﷺ یہ فرمایۓ کہ اگر کوئی آکر مال چھیننا چاہے تو میں کیا کروں؟آپﷺنے فرمایا اس کو مت دو،اس نے کہا اگر وہ لڑنا شروع کر دے،آپﷺنے فرمایا تم اپنے دفاع میں لڑو،اس نے پوچھا،اگر وہ مجھے قتل کر دے، آپﷺنے فرمایا تم شہید ہوگے،اس نے پوچھا اگر میں اس کو قتل کر دوں؟آپ ﷺنے فرمایا وہ جہنمی ہوگا-
{صحیح مسلم  جلد اول صفحه ۱۴۸ باب کتاب الایمان}
مذکورہ بالا حدیث شریف سے واضح ہے کہ زبراً کسی کا مال چھیننا جرم ہے {اور یہ حقوق العباد میں سے ہے اور اس جرم کو رب العزت بھی معاف نہ فرماۓ گا جب تک کہ وہ آدمی معاف نہ کردے جس کا مال چھینا ہے} اور جیسا کہ اللّٰه رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے
یٰٓاَیُّھَا اْلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضِ مّنِْکُمْ وَلَاتَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰهَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا
ترجمه:-   اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سَودا تمہاری باہمی رضا مندی کاہو اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بےشک اللّٰه تعالیٰ تم پر مہربان ہے- 
{پارہ،۵، سورہ نساء آیت نمبر ۲۹ ترجمه کنزالایمان شریف}
اور اگر زید کو خالد جھگڑے کی تناظر میں قتل کردے تو زید کی موت شہادت کی ہوگی اور خالد گناہ گار ہوگا اور اگر زید خالد کو اپنی زمین بچانے کے لیۓ خالد کو  قتل کر دے تو خالد جہنمی ہوگا اور زید پر کوئی عتاب نہ ہوگا اس حدیث شریف کی روشنی میں،
 تو ایسے افعال کو اختیار کرنا جو دنیا و آخرت میں ہلاکت کا باعث بنے یہ کبیرہ گناہ میں سے ہے اور مومن کا قتل کرنا خود ہی قتل کرنا ہے {یعنی خود کی جان کا قتل کرنا} کیوں کہ تمام مومن نفسِ واحد کی طرح ہیں، 
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۳شعبان المعظم شریف ۱۴۴۴ھجری 
۲۴فروری ۲۰۲۳عیسوی بروز آدینه ــــــــــــــــ جمعةالمبارک
Previous Post Next Post