گھر میں دوسرے کے گرے ہوئے سامان کا شرعی حکم



 (استفتاء)_السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ_ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر کسی باہر کے لڑکے کا سامان یا کوئی بھی کھلونا گھر میں گر جائے اور یہ نہ معلوم ہو کہ وہ کس لڑکے کا ہے تو اُسے کیا کرنا چاہیے؟
(مستفتی):محمد حسنین رضاپچپڑوا بلرام پور.

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ جب وہ کھلونا گھر میں گِرا ہوا ملا اور مالک بھی معلوم نہیں تو یہ لُقطہ ہے. اور آجکل کا کھلونا عموماً اتنا کم قیمتی نہیں ہوتا کہ مالک اس کی طلب نہ رکھے، لہذا اس کھلونے پر لقطہ کے احکام جاری ہوں گے، حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :"جو مال کہیں پڑا ہوا ملے اور اس کا مالک معلوم نہ ہو اصطلاح شرع میں اسے لقطہ کہتے ہیں، اور لقطہ امانت کے حکم میں ہے، اٹھانے والے پر لازم ہے کہ لوگوں سے کہہ دے کہ جو کوئی گمی چیز تلاش کرتا ہوا ملے اسے میرے پاس بھیج دینا اور جہاں وہ چیز پائی ہو وہاں اور بازاروں میں اور شارع عام اور مسجدوں میں اعلان کرے، اگر مالک مل جائے تو اسے دیدیں ورنہ اتنا زمانہ گزرنے پر کہ ظنِّ غالب ہو جائے کہ اب اس کا مالک تلاش نہیں کرے گا اسے اختیار ہے کہ اس کی حفاظت کرے یا اگر خود مسکین ہے تو اپنے اوپر صرف کرے ورنہ صدقہ کردے، بہر کیف اگر وہ اشیاء کھانے یا پھل کی قسم سے ہے تو یہ گمان ہونے پر کہ اب رکھی رہے گی تو خراب ہو جائے گی تو وہ شخص خود اپنے صرف میں لا سکتا ہے یا غنی ہے تو فقیر کو تصدق کردے، پھر اگر مالک مل گیا اور وہ چیز صرف کر چکا ہے تو مالک کو اختیار ہے اس کے تصرف کو جائز کر دے تو مستحق ثواب ہوگا یا تاوان لے. درمختار میں ہے: فان اشھد علیه عرف ای نادی علءھا حیث وجدھا و فی المجامع الی ان علم ان صاحبھا لا یطلبھا او انھا تفسد ان بقیت کا لاطعمه والثمار کانت امانته فینتفع الرافع بھا لو فقیرا و الا تصدق بھا علی فقیر و لو علی اصله و فرعه و عرسه فان جاء مالکھا بعد التصدق خیر بین اجارۃ فعله و لو بعد ھلاکھا و له ثوابھا او تضمینه ھ۱ ملتقطا
اور غنی مال لقطہ کو مسجد میں نہیں صرف کر سکتا(فتاوی امجدیہ ج ۲ ص ۳۱٤) 
 اس عبارت سے ثابت ہوا کہ صورت مسئولہ میں جس کے گھر میں لقطہ کا سامان یعنی کھلونا گیند وغیرہ گرگیا ہو اور مالک معلوم نہ ہو تو اگر گھر والا اٹھائے تو مذکورہ بالا عبارت پر عمل کرتے  ہوئے حکم بجا لائے. اور گھر میں کسی کا سامان گرجائے اور کسی فرد کو معلوم نہ ہو یہ سخت تعجب کی بات ہے، لہذا معلومات حاصل کرکے اس تک پہنچادے.واللہُ تعالٰی اَعْــــــــلَمُ. 

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدیٓ بلرام پور یوپی انڈیا
۲۹ رجب المرجب ۱۴۴۳ ھجری بروز دوشنبه.
__
 تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
 حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.

 سنی رضوی دارلافتــاء
Previous Post Next Post