مسئله:- حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان نے لڑکے کے بالغ ہونے کی عمر ۱۲سال تحریر فرمائی ہے اور کسی لڑکے کی عمر ۱٤سال ہے اور اس کی مونچھ بھی جمی ہے پر اسکو انزال نہیں ہوتاہے تو اب وہ لڑکا شریعت کی روشنی میں بالغ ہے یا نہیں؟
:بِسمِ اللّٰهِ الْــرَّحْـــمٰنِ الْــرَّحِــــیْمْ
:الجواب بعون الملک الوھاب
صورتِ مسئوله میں مذکورہ لڑکا شریعت کی روشنی میں بالغ نہیں ہے ایسے بچے کے متعلق بہار شریعت میں ہے :
لڑکے کو جب انزال ہوگیا وہ بالغ ہے وہ کسی طرح ہو سوتے میں ہو جس کو احتلام کہتے ہیں یا بیداری کی حالت میں ہو۔ اور انزال نہ ہو تو جب تک اس کی عمر پندرہ سال کی نہ ہو بالغ نہیں جب پورے پندرہ سال کا ہوگیا تو اب بالغ ہے علامات بلوغ پائے جائیں یا نہ پائے جائیں ،لڑکے کے بلوغ کے لیے کم سے کم جو مدت ہے وہ بارہ سال کی ہے یعنی اگر اس مدت سے قبل وہ اپنے کو بالغ بتائے اس کا قول معتبر نہ ہوگا۔
(بہار شریعت حصہ ۱۵ بلوغ کا بیان صفحہ ۲۰۳)
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۲ شعبان المعظم شریف ١٤٤٤ھجری
۲۳ فروری ٢٠٢٣ عیسوی بروز پنجشنبه ــــــــــــــــــــــــــ جمعرات
Tags:
بلوغ کا بیان