(استفتاء)_السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ_ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ کسی شخص کا ساؤنڈ سسٹم وغیرہ کا کاروبار ہے، تو کیا وہ دیوی دیوتاؤں یا مندروں میں اس کو کرائے پر دے سکتا ہے؟ اس کی کمائی حلال ہوگی؟ ایسے شخص کے ساتھ رشتہ کیا جانا درست ہو گا؟
(مستفتی): محمد عارف، مہاراشٹر.
*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ
بِسْــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
الـــجـــوابــــــــــــــــــــــــــــ شریعت کا قاعدہ کلّیہ یہ ہے کہ جس چیز اور جس فعل کے ساتھ معصیت بعینہ قائم ہو اس کی بیع و شراء اور اسے انجام دینا ناجائز ہے، اور جس کے ساتھ معصیت کا قیام بعینہ نہ ہو اس کی بیع اور اسے انجام دینا جائز ہے. لہذا وہ شخص ساؤنڈ سسٹم مندروں میں کرائے پر دے سکتاہے؛ کہ اس کی غرض کرایہ سے ہے نہ کہ اس سے جو کچھ اس میں بجایا جائے گا، لہٰذا اس کی کمائی حلال ہے اور اس سے رشتہ کرنے میں بھی حرج نہیں. البتہ تقوی اختیار کرتے ہوئے مندر وغیرہ کے لیے ساؤنڈ سسٹم نہ دے تو بہتر؛ کیونکہ کرائے پر دینے والے کوبھی معلوم ہے کہ اس کے ساؤنڈ سسٹم سے بھجن وغیرہ شرکیہ گانے بجائے جائیں گے.
الدرالمختار میں ہے:"ان ماقامت المعصیة بعینہ یکرہ بیعہ تحریما و الا فتنزیھا" (ص:٦٦١، دارالکتب العلمیۃ)
*یعنی* جس چیزکےساتھ معصیت/گناہ بعینہ قائم ہو اس کی بیع مکروہ تحریمی ہے ورنہ تنزیہی.
مثلاً مورتی بنانا اس کی خرید وفروخت کرنا حرام ہے؛ کہ معصیت بعینہ مورتی کےساتھ قائم ہے؛ کہ اسے ہی پوچا جاتاہے، مگر اجرت پر مندر کی تعمیر ناجائزنہیں؛ کہ معصیت عین مندر کےساتھ قائم نہیں.
علامہ تمرتاشی پھر علامہ علاؤالدین حصکفی علیہما الرحمہ فرماتے ہیں:"وجاز تعمیر کنیسة وحمل خمر ذمی بنفسہ او دابتہ باجر لاعصرھا لقیام المعصیة بعینہ"(الدرالمختار ص:٦٦١، دارالکتب العلمیۃ)
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتےہیں:"ولو آجر نفسہ لیعمل فی الکنیسة ویعمرھا لا باس بہ ، لانہ لامعصیة فی عین العمل" (ردالمحتار، ج:٩، ص، ٥٦٢، دار عالم الکتب)
فتاوی رضویہ میں ہے:" مسلمان مکان کرایہ پر دے اس کی غرض کرایہ سے ہے، اور اعمال نیات پر ہیں، یہ نیت کیوں کرے کہ اس لئے دیتاہے کہ اس میں شراب نوشی و شراب فروشی ہو، ایسی حالت میں کرایہ اس کے لئے حلال اور اس کے یہاں کھانا کھانے میں حرج نہیں، ہاں جو اس حرام نیت کو شامل کرلے کہ وہ اب خود ہی گنہگار بنتاہے، اور اگر وہ مکان ایسی جگہ واقع ہے جہاں ان مفاسد کا اظہار باعث ضرر وخرابی ہمسائگان ہوگا، تو ناجائز، یہ باعث فتنہ ہوا، اور فتنہ حرام، بہرحال نفسِ اجرت کے کسی فعل حرام کے مقابل نہو حرام نہیں ہے، یہی معنی ہیں اس قول حنفیہ کے کہ:یطیب الاجر وان کان السبب حراما کما فی الاشباہ وغیرھا فاحفظ فانہ علم عزیز فی نصف سطر"(ج:٩،ص:ص:٤٤٩، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور) واللہ تعالی اعلم
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــبه: معصوم رضا نوری ارشدی، بلرام پور، یوپہ انڈیا.
اکتوبر/18//2022 بروز منگل.
تصـــــدیقاتِ مفتیانِ عظام!
حضرت مولانامفتی راحت علی مصباحی صاحب، بلرام پور،یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانامفتی ذیشان ضیاء مصباحی صاحب، خیرآباد مئو یوپی، انڈیـــا.
حضرت مولانا مفتی سفیان احمد مصباحی صاحب، گونڈہ،یوپی،انڈیا.
حضرت مولانامفتی عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
حضرت مولانا مفتی رضوان احمد مصباحی صاحب، بلرام پور یوپی،انڈیـــا.
سنی رضوی دارلافتــاء
Tags:
متفرقات