مسئلہ :- زید نے اپنی بیوی کو طلاق رجعی دیا پھر رجوع کرلیا تو اب وہ کتنی طلاق کا مالک رہے گا؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مستفسرہ میں زید نے اگر ایک طلاق رجعی دیاہے تو دو طلاقوں کا مالک رہےگا اور دوطلاق دیاہے تو ایک طلاق کا مالک رہے گا بشرطیکہ بعد انقضائے عدت کسی دوسرے مرد سے اس عورت کا نکاح نہ ہوا ہو،
چنانچہ امام شمس الائمہ محمد بن احمد بن ابوسہل سرخسی حنفی متوفی۴۸۳ھ فرماتے ہیں
"ولو تزوجها قبل التزوج أو قبل إصابة الزوج الثاني كانت عنده بما بقي من التطليقات"
(المبسوط للسرخسی ، کتاب الطلاق ، باب من الطلاق ، تحت قولہ : وان طلق امرأته واحدة أو اثنتین ثم تزوجها بعد زوج قد دخل بها فهي عنده على ثلاث تطليقات مستقبلات في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى ، ۶/۹۵ ، مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ،
یعنی ، دوسرے شوہر کےساتھ نکاح سے قبل یا جماع سے قبل اگر اس نے اپنی مطلقہ رجعیہ سے( بعد انقضائے عدت ) نکاح کیا تو اس کے پاس مابقی طلاقوں کا اختیار رہےگا ،
البتہ اگر بعد عدت مذکورہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کرلیتی ہے ، پھر اس سے طلاق یا اس کی وفات کے بعد زید سے نکاح ہوتا ہے تو زید ازسرنو مستقل تین طلاقوں کا مالک رہے گا جیساکہ مبسوط کی تحت قولہ کی عبارت سے عیاں ہے ،
والله تعالیٰ اعلم
۲۱ رجب المرجب ۱۴۴۴ ھجری
۱۳ فروری ۲۰۲۳ عیسوی دوشنبہ
Tags:
طلاق کا بیان