مسئله:- جو شخص کشتی سے اتر کر خشکی میں نماز پڑھ سکتا ہے پھر بھی کشتی میں نماز پڑھے جب کہ کشتی پانی پر ہی ہو تو ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہے؟
بِسمِ ﷲِ اْلْـــرَّحْمٰنِ اْلْـرَّحِـــیْم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نماز ہوگی ہی نہیں
کیونکہ جو شخص کشتی سے اتر کر خشکی میں نماز پڑھ سکتا ہے اسے چاہیے خشکی میں ہی نماز پڑھے ہاں اگر کشتی زمین پر بیٹھ گئی تو اس پر نماز ہوجائے گی کہ اب وہ مثل تخت ہے،
حضور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
دو کشتیاں باہم بندھی ہوں ایک پر امام ہے اور دوسری پر مقتدی تو اقتدا صحیح ہے اور جدا ہوں تو اقتدا صحیح نہیں- اور اگر کشتی کنارے پر رکی ہوئی ہے اور امام کشتی پر ہے اور مقتدی خشکی میں تو اگر ان کے درمیان میں راستہ ہو یا بڑی نہر کے برابر فاصلہ ہو تو اقتدا صحیح نہیں-ورنہ ہے یعنی جب امام اترنے پر قادر نہ ہو، اس لیۓ کہ جو شخص کشتی کے اتر کر خشکی میں پڑھ سکتا ہے اسکی کشتی پر نماز ہوگی ہی نہیں- ہاں اگر کشتی زمین پر بیٹھ گئی تو اس پر بہرحال نماز صحیح ہے کہ اب وہ تخت میں کے حکم میں ہے -
(بہار شریعت جلد، ۱، حصه،۳، صفحه، ۵۶۴ امامت کا بیان)
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۹رجب المرجب شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱فروری ۲۰۲۳ عیسوی بروز چہار شنبہ ـــــــ بدھ
Tags:
نماز کا بیان