مسئلہ :- سید یعنی آل رسول جن کو ہاشمی کہا جاتا ہے ان کو صدقہ نافلہ لینا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
سید کو صدقہ نافلہ لینا جائز ہے
محقق جلیل حضور اعلی حضرت عظیم البرکت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں ،،
(فتاوٰی عتابیہ پھر نہایہ شرح ہدایہ پھر سعدی آفندی علی العنایہ میں ہے؛
یجوز النفل للھا شمی مطلقا بالاجماع وکذا یجوز النفل للغنی ،، ہر نفلی صدقہ بالاتفاق ہاشمی کے لیے جائز ہے اور اسی طرح نفلی صدقہ غنی کے لیے بھی جائز ہے۔
(حاشیۃ سعدی آفندی علی العنایہ مع فتح القدیر باب یجوز دفع الصدقۃ الیہ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۱۱)
درمختار میں ہے؛
جازت التطوعات من الصدقات و غلۃ الاوقاف لھم. ،، نفلی صدقات اور غلہ اوقاف ان (اغنیاء) کے لیے جائز ہے
( درمختار باب لمصرف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۱)
(فتاوی رضویہ ج ۱۰ صدقات نفل کا بیان)
والله تعالیٰ اعلم
۷ رجب المرجب ۱۴۴۴ ھجری
۳۰ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی دوشنبہ
Tags:
صدقہ کا بیان