مسئلہ :- اقتدا کی نیت ہے اور کسی نے امام سے پہلے تکبیر تحریمہ کہی تو وہ امام کے ساتھ نماز میں شامل تو نہیں ہوا مگر کیا اس کی اپنی نماز ہوئی یا نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں اگر مقتدی نے امام سے پہلے تکبیر تحریمہ کہی اور اقتدا کی نیت تھی تو اس کی اپنی نماز الگ بھی نہیں ہوئی ہاں اگر اقتدا کی نیت نہ ہوتی تو اس کی اپنی الگ ہوجاتی ، ظاہر ہے کہ جب اس نے امام سے پہلے تکبیر کہہ دی تو امام کے ساتھ نماز شریک ہوا ہی نہیں اور اب وہ امام سے الگ ہوگیا اب اس پر خود قرأت کرنا فرض تھا وہ اس نے کیا نہیں اس لیے اس کی اپنی الگ بھی نہیں،
بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۵۱۲ میں ہے "
امام سے پہلے تکبیر تحریمہ کہی، اگر اقتدا کی نیت ہے، نماز میں نہ آیا ورنہ شروع ہوگئی، مگر امام کی نماز میں شرکت نہ ہوئی، بلکہ اپنی الگ، اور عالمگیری جلد اول صفحہ ٦۸ میں ہے :
فان قال المقتدی اللہ اکبر و وقع قولہ اللہ مع الامام وقولہ أکبر وقع قبل قول الامام ذلک قال الفقیہ ابوجعفر اوصح أنہ لایکون شارعاً عندھم۔
والله تعالیٰ اعلم بالصوابــــــــــ
۲۸ جمادی الاول ۱۴۴۴ ھجری
۲۳ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی جمعہ مبارکہ
Tags:
نماز کا بیان