مسئلہ خواب کتنی طرح کے ہوتے ہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
خواب کئی طرح کے ہوتے ہیں اس میں مفسرین کا اختلاف ہے "
کیونکہ بعض کتب میں تین بعض میں چار کا تذکرہ ہے :
(۱) اچھا خواب (۲)،،شیطانی خواب ( ۳) غم والا خواب ،
جیساکہ سنن دارمی شریف مترجمصفحہ ۲۳ میں ہے:
حدیث نمبر ۲۱۸۰ اَخبَرنَا مُحَمَّدُبنُ کَثیرٍ عَن مَّخلَدِ بنِ حُسَینٍ عَن ھِشامٍ عَن اَبِی ھُرَیرَۃَ رضی ﷲ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ ﷲﷺ الرُّیَٔا ثَلاثٌَ فالرُّیَٔا اَلحُسنَۃُ بُشرَی مِنٔﷲِ اَلرُّیَٔا تَحزِینٌ مِنَ الشَّیطَانِ وَالرُّیَٔا مِمَّا یُحدِثُ بِهِ الاِنسَانُ نَفسَهٗ فَاِذَا رَایَٔ اَحَدُکُم مَا یَکرَھُهٗ فَلَا یُحدِثْ بِهِ وَالیَقُم وَ الیُصَلّ ِ
ترجمه ـــــــ★★حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا خواب تین طرح کے ہوتے ہیں اچھا خواب اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہوتی ہے ایک خواب شیطان کی طرف سے دیا جانے والا غم ہوتا ہے اور ایک وہ خواب ہے جس میں انسان اپنے آپ سے بات کرتا ہے
وضاحت ـــــــــ توجب کوئی شخص ایسا کوئی خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو وہ اسے کسی سے بیاننہ کرے بلکہ وہ رب العزت کی بارگاہ میں کھڑا ہو کر نوافل ادا کرے اور توبہ بھی کرلے اور توبہ کے تعلق سے الامام موفق الدین ابی محمد عبداللّٰه بن احمد المقدسی رحمۃ اللّٰه علیہ اپنی تصنیف کردہ کتاب، کتاب التوابین میں ایک نبی علیہ السلام کی قوم کی توبہ صفحہ نمبر ۶۳ تر تحریر فرماتے ہیں:
سعید بن سنان الحمصی رحمۃ اللّٰه علیہ نے روایت بیان کی ہے کہ اللّٰه تعالیٰ نے اپنے انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ تمہاری قوم پر عذاب اترنے والا ہے کہتے ہیں کہ اس محترم نے یہ بات اپنی قوم کو بتائی اور فرمایا کہ اپنے بہترین افراد کو باہر لیکر جاؤ اور رب العزت کی بارگاہ میں توبہ کرو(مختصراً)
ہم تو اپنے آقاؤں کے غلام ہیں جب ہمارے آقاؤں کا یہ حال ہے تو ہمیں بدرجۂ اولٰی توبہ کرتے رہنا چاہیۓاور توبہ کے تعلق سے رب کائنات قرآن مجید میں حضرتِ یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:
فَلَولَا کَانَت قَریَۃٌ اٰمَنَت فَنَفَعَھَا اِیمَنُھَااِلَّا قَومَ یُونُسَ لَمَّآ اٰمَنُوا کَشَفنَا عَنھُم عَذَابَ لخِزیِ فِی الحَیٰوۃِ الدُّنیَا وَمَتَّعنٰھُم اِلٰی حِینٍ (٩٨) سورۂ یونس پارہ،۱۱صفحہ،۴۱۲،کنزالایمان شریف،
ترجمه ــــــــــ تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی ۵۰۲ کہ ایمان لاتی۶۰۲ تو اسکا ایمان کام آتا ہاں حضرتِ یونس علیہ السلام کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا اور ایک وقت تک انہے برتنے دیا۷۰۲:
تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب رب کائنات اپنے پیارے معصومین کی جماعت (انبیاء کرام علیہم السلام) کو قوم کی طرف سے توبہ کی تلقین فرماتا رہا تو ہمیں بھی توبہ کرتے رہنا چاہیۓاور اسی میں ہماری بھلائی بھی ہے اور رب العزت توبہ کرنے والوں کو خوب پسند بھی فرماتا ہے اور اپنا کوئی بھی خواب کسی سے ہرگز ہرگز نہ بیان کریں-
اور فتاویٰ رضویہ جلد ۲۹ صفحہ ۸۸ میں ہے :
خواب چار قسم ہے : ایک حدیثِ نفس کہ دن میں جو خیالات قلب پر غالب رہے جب سویا اور اس طرف سے حواس معطل (یعنی سُست) ہوئے عالمِ مثال (یعنی خیالی دنیا) بقدرِ استعداد منکشف (یعنی ظاہر) ہوا انہیں تخیلات کی شکلیں سامنے آئیں یہ خواب مہمل و بے معنی ہے اور اس میںداخل ہے وہ جو کسی خلط (یعنی ملاوٹ) کے غلبہ اس کے مناسبات نظر آتے ہیں مثلاً صفراوی آگ دیکھے بلغمی پانی۔
دوسرا خواب : القائے شیطان ہے اور وہ اکثر وحشت ناک ہوتا ہے شیطان آدمی کو ڈراتا یا خواب میں اس کے ساتھ کھیلتا ہے ، اس کوفرمایا کہ کسی سے ذکر نہ کرو کہ تمہیںضرر نہ دے۔ ایسا خواب دیکھے تو بائیں طرف تین بار تھوک دے اور اَعُوذُ پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ وُضو کرکے دو رکعت نفل پڑھے۔
تیسرا خواب : القائے فرشتہ ہوتا ہے اس سے گزشتہ و موجودہ و آئندہ غیب ظاہر ہوتے ہیں مگر اکثر پردۂ تاویل قریب یا بعید میں ، ولہٰذا محتاجِ تعبیر ہوتا ہے۔
چوتھا خواب : کہ ربّ العزّۃ بلاواسطہ القا فرمائے وہ صاف صریح ہوتا ہے اور احتیاجِ تعبیر سے بری۔
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۱۳/ جُمادی الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری
۶/ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی بروز آدینہ ـــــــ جمعۃالمبارک
Tags:
متفرقات