میت کی تعداد متعین کرکے جنازہ پڑھایا تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ ؛- چند جنازے کی نماز جنازہ تعداد معین کرکے ایک ساتھ پڑھی (مثلاً) ۱۱کی تعداد معین کی اور بعد کو شمار کرنے پر نکلے ۱۲ تو اس صورت میں نماز جنازہ ہوئی یا نہیں؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں نمازِ جنازہ نہیں ہوئی ، کیونکہ تعداد متعین کرکے پڑھی ہے، 
جیسا کہ بہار شریعت میں ہے :
چند جنازے ایک ساتھ پڑھے، تو ان کی تعداد معلوم ہونا ضروری نہیں  اور اگر اس نے تعداد معین کرلی اور اس سے زائد تھے، تو کسی جنازے کی نہ ہوئی۔ یعنی جب کہ نیت میں  اشارہ نہ ہو، صرف اتنا ہو کہ دس (۱۰)  میّتوں  کی نماز اور وہ تھے گیارہ (۱۱)  تو کسی پر نہ ہوئی اور اگر نیت میں  اشارہ تھا، مثلاً ان دس (۱۰)  میّتوں  پر نماز اور وہ ہوں  بیس (۲۰) تو سب کی ہوگئی، یہ احکام امامِ نمازِ جنازہ کے ہیں  اور مقتدی کے بھی، اگر اس نے یہ نیت نہ کی ہو کہ جن پر امام پڑھتا ہے، ان کے جنازہ کی نماز کہ اس صورت میں  اگر اس نے ان کو دس (۱۰) سمجھا اور وہ ہیں  زیادہ تو اس کی نماز بھی سب پر ہو جائے گی۔ 
حصہ 3صفحہ 498 نماز کی شرطوں کا بیان) 
والله تعالیٰ اعلم
۱۷ جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۱۰ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی سہ شنبہ
Previous Post Next Post