مسىٔلہ:- نماز کی روح کیا ہے؟
بِسمِ ﷲِ اْلْـــرَّحْمٰنِ اْلــرَّحِـــیْم
الجواب بعون الملک الوھاب:
نماز کی روح ذکر الٰہی ہے، جیسا کہ صاحب ابن ماجہ واقم الصلوٰۃ للذکری، کا مطلب بیان کرتے ہوۓ لکھتے ہیں کہ نماز کی روح ذکراللّٰه ہے اور نماز اول آخر تک ذکر ہی ذکر ہے زبان سے بھی اور دل سے بھی اور دوسرے اعضاء سے بھی اس لیۓ نماز میں ذکر الٰہی سے غفلت نہ ہونے چاہیۓ اور اس کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ اگر کوئی شخص ننید میں مغلوب ہوگیا یا کسی کام میں لگ کر بھول گیا اور نماز کا وقت نکل گیاتو جب ننید سے بیدار ہو یا بھول پر تنبہ ہو اور نماز یاد آۓ تو اسی وقت نماز کی قضاء پڑھ لے یعنی اگر کسی کو کہا گیا کہ یہ نماز کی روح ہے تو وہ ہے نماز میں ذکر الٰہی کرنا وہی ہے اصل نماز کی روح ہے
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
شرح سنن ابن ماجہ شریف جلد دوم صفحہ،۷۷ کتاب الصلوٰۃ
۲۵/ جُمادی الآخر شریف۱۴۴۴ ھجری
۱۸/ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی بروز چہار شنبہ ـــــــ بدھ
Tags:
نماز کا بیان