جس بکرے کے دانت نہ جمے ہوں اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟)


*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

جس بکرے کے دانت نہ جمے ہوں اور اس کی عمر سال بھر ہوگی ہو اس کی قربانی درست ہے؟
مدلل جواب عنایت فرمائیں

*(سائل امتیاز مشاہدی)
*وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ*

*بسم الله الرحمن الرحیم*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
قربانی درست ہے
کیونکہ قربانی کے بکرا کا عمر سال بھر ہونا ضروری ہے، دانت نکلنا ضروری نہیں لہذا اگر واقعی سال بھر کا ہے تو اس کی قربانی جائز ہے

در مختار  مع شامی جلد نہم صفحہ ٤٦٦  میں ہے:

*"صحّ الثنی فصاعداً من الثلاثۃ والثنی ھو ابن حول من الشاۃ"  اھ*
اور ایسا ہی فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ ٤۵٦ میں ہے؛
*والله تعالیٰ اعلم*
*کتبــــہ؛*
*محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ*
*مورخہ:۲۸ ذی القعدہ ۱۴۴۳ ھجری بروز چہار شنبہ)*

*الجواب صحیح والمجیب نجیح*
*محمدشرف الدین رضوی ، شیخ الحدیث دارالعلوم حبیبیہ قادریہ، فیلخانہ، ہوڑہ ، کلکتہ*

*الجواب صحیح والمجیب نجیح*
*سید شفیع عالم ساحل اشرفی،  احمدآباد،  گجرات*

Previous Post Next Post