کیا کبھی حضور نبی کریم ﷺ کی نماز قضا ہوئی ہے؟

مسئلہ:-    زید کا کہنا ہے کہ رسولِ اکرم نور مجسم شاہِ بنی آدم ﷺسے بھی ایک موقع پر نماز قضا ہوئی اور بکر کا کہنا ہے کہ حضورِ اقدس ﷺ سے کبھی بھی نماز قضا نہ ہوئی آپنے ہمیشه ادا ہی ادا فرمائی ہے آیا ان دونوں میں کس کا قول درست ہے؟
بِسمِ ﷲِ اْلْـــرَّحْمٰنِ اْلْـرَّحِـــیْم
الجواب بعون الملک الوھاب
زید کا کہنا بالکل درست ہے رسولِ کائناتﷺ سے بھی نماز قضا ہوئی ہے  جنگ خندق کے موقع پر پھر حضور ﷺ نے جماعت سے نماز پڑھائی کیوں کہ پوری جماعت کی نماز قضا ہوئی تھی ، حضرتِ علّامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: 
لم یقل المتروکات ظنابا المسلم خیرا اذاالتأخیر بلا عذر کبیرۃ لا تزول بالقضاء بل بالتوبۃ اوالحج ومن العذر العدو وخوف القابلۃ موت الولاد لانه علیه الصلوٰۃ والسلام اخرھا یوم الخندق ثم الاداء فعل الواجب فی وقته و بالتحریمۃ فقط ڈالوقت یکون اداء عندنا وبرکعۃ عند الشافعی رضی ﷲعنہ والاعادۃ فعل مثله فی وقت لخلل غیرالفساد لقولھم   کل صلوٰۃ ادیۃ مع کراھۃ التحریم تعاد ای وجوبا فی الوقت واما بعده فندبا والقضاء فعل الواجب بعد وقته واطلاقه علی غیر الواجب کالتی قبل الظھر مجازاً۔ اھ 
ترجمہ  وہ عذر جس کی وجہ سے نماز مؤخر کی جاتی ہے دشمن کا ہونا ہے بچہ جمانے والی دائی کا یہ خوف ہے کہ بچہ مر جائے گا، اس لیۓ آنحضرت صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم نے یومِ خندق میں دشمن کی وجہ سے نماز قضا فرمائی تھی، یعنی نہیں پڑھ سکے تھے بعد میں قضا کی (غزوۂ خندق میں آنحضرت صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی چار وقت کی نماز قضا ہوئی کچھ رات گزرنے کے بعد آپنے پہلے ظہر کی نماز پڑھی پھر عصر کی، پھر مغرب کی، پھر عشاء کی، اس معلوم ہوا کہ جب دشمن گھیرے ہوۓ ہو تو نماز کو مؤخر کیا جاسکتا ہے) ایک بات اور معلوم ہوئ کہ قضا نمازوں کو ترتیب وار پڑھنا بھی رسولِ کائناتﷺ کی سنت پاک بھی ہے اس لیۓ فقہائے کرام علیہم الرضوان نے قضا نمازوں کو ترتیب وار پڑھنے کا حکم دیا، 
در مختار مترجم جلد،۱، کتاب الصلوٰۃ باب قضاء الفوائت صفحه۵۴۱
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ۵ رجب المرجب شریف۱۴۴۴ھجری 
۲۸جنوری۲۰۲۳عیسوی بروز شنبہ ـــــــــ سنیچر
Previous Post Next Post