حقہ کا پاک ہے یا ناپاک؟

مسئلہ :- زید کہتا ہے حقہ کا پانی پاک ہے  بکر کہتا ہے حقہ کا پانی ناپاک ہے دونوں میں کس کا قول معتبر ہے؟ 
  زید کا قول معتبر ہے  کیونکہ حقہ کا پانی قطعاً پاک ہے 
اعلیٰ حضرت سے سوال ہوا، حقہ کا پانی پاک ہے یا نہیں؟ 
تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا
قطعاً پاک ہے، پانی پاک، تمباکو پاک، اس کا دھواں پاک، پاک چیز سے پانی کا رنگ بو مزہ بدل جانا اسے ناپاک نہیں کر سکتا یہاں تک کہ (١)مذہب صحیح میں نہ صرف طاہر بلالکہ مطہر اور قابل وضو بھی رہتا ہے بایں معنٰی کہ اس سے وضو کرے وضو ہو جائے گا اگرچہ بوجہ بو مکروہ ہے، یہاں تک کہ جب تک اسکی بو باقی ہو مسجد میں جانا حرام اور جماعت میں شامل ہونا منع ہوگا پھر بھی اگر(٢) سفر میں ہو اور وضو کے لیۓ پانی کم تھا کہ مثلاً ایک یا دونوں پاؤں دھونے سے رہ گیۓ اور حقے میں پانی ہے جس سے وہ کمی پوری ہو سکتی ہے تو اس صورت میں تیمم جائز نہ ہوگا نماز باطل ہوگی بلالکہ اسی پانی سے وضو کی تکمیل لازم ہوگی لانه یجد ماء وانما یقول اللّٰه تعالیٰ" فَلَمَّ تَجِدُوا  مَآءً فَتَیَمَّمُوا"
کیوں کہ وہ پانی کو پا رہا ہے جبکہ اللّٰه تعالیٰ فرماتا ہے: اور تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو-ت) اور در مختار میں ہے:
یجوز بماء خالطه طاھر جامد کفاکھۃ و ورق شجر وان غیر کل اوصافه فی الاصح ان بقیت رھته واسمه اھ ملخصاً ، 
اس پانی میں سے وضو جائز ہے جس میں کوئی خشک پاک چیز مل گئی ہو، جیسے میوہ اور درخت کے پتے، خواہ اس نے اس کے تمام اوصاف کو بدل دیا ہو اصح یہی ہے، بس شرط یہ ہےکہ اس کی رقت اور اسکا نام باقی رہے ملخصاً واللّٰه تعالیٰ اعلم-ت)
(فتاویٰ رضویہ شریف جلد دوم،صفحه،۳۲۱،باب المیاہ) 
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۲۰/ جمادی الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری
۱۳/ جنوری۲۰۲۳ عیسوی بروز آدینہ ـــــــ جمعۃالمبارک
Previous Post Next Post