مسئلہ:- زید کے گھر میں ایک حوض ہے جو اوپر سے دہ دردہ نہیں ہے اور اندر سے دہ دردہ ہے تو پانی میں بے وضو ہاتھ ڈالنےسے پانی مستعمل ہوگا یا نہیں؟
بِسمِ ﷲِ اْلْـــرَّحْمٰنِ اْلْـرَّحِـــیْم
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر حوض اوپر سے دہ دردہ نہیں ہے اور اندر سے دہ دردہ ہے تو پانی میں بے وضو ہاتھ ڈالنے پانی مستعمل ہو جائے گا جیساکہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت امام الفقہاء حضور مفتئ اعظم ہند رضی ﷲ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
کہ جب اوپر سے حوض دہ دردہ نہیں ہے تو بے وضو ہاتھ ڈالنےسے پانی مستعمل ہوجاۓگا ہاں اگر ہاتھ علٰحدہ پانی سے دھوکر ڈالے اور ہاتھوں سے پانی لیکر وضو کرے مستعمل نہ ہوگا اگر کوئی ظرف (سامان، یا برتن) وہاں نہیں ہے جس سے پانی نکال کر ہاتھ دھویا جائے تو اس صورت میں انگلیوں کو ملاکر ایک ہاتھ سے پانی نکال کر دائیں ہاتھ دھوۓ اور اسکے بعد دوسرا ہاتھ دھوکر وضو کرے مگر چلو سے پانی نکالتے وقت وضو کی نیت نہ ہو-
فتاویٰ مصطفویہ صفحه،۱۳۸، کتاب الطہارۃ)
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۲ رجب المرجب شریف ۱۴۴۴ ھجری
۲۵ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی بروز چہار شنبہ ـــــــ بدھ
Tags:
کتاب الطہارۃ