کفارہ کا ایک بہت اہم مسئلہ

مسئلہ:-   زید پر کفارہ لازم تھا اور عمر نے‌زید کا کفار ادا کرنے کے لئے بغیر زید کے حکم کے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادیا اب عمر کا جو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے میں مال خرچ ہوا وہ زید سے مانگ رہا ہے تو امر طلب یہ ہے کہ عمر کا مطالبہ درست ہے یا نہیں؟
بِسمِ ﷲِ اْلْـــرَّحْمٰنِ اْلْـرَّحِـــیْم
الجواب بعون الملک الوھاب
 صورت مسئولہ میں عمر کا مطالبہ درست نہیں کیوں کہ زید نے اس کو اجازت نہیں دی تھی بلکہ عمر نے زید کے حکم کے بغیر کفارہ ادا کیا اس لیے مطالبہ نہیں کرسکتا،
جیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرحمٰن بہار شریعت حصہ پنجم کفارہ کے بیان میں تحریر فرماتے ہیں:
دوسرے نے بغیر اس کے حکم‌کے کھلا دیا تو کفارہ ادا نہ ہوا اور اس کے حکم سے ہے تو صحیح ہے مگر جو صَرف ہوا ہے وہ اس نہیں لے سکتا ہاں اگر اس نے حکم کرتے وقت یہ کہدیا ہو کہ جو صرف ہوگا میں دونگا تو لے سکتا ہے' 
اور در مختار میں ہے 
امر غیرہ ان‌ یعطم عنه عن ظہارہ ففعل ذالک الغیر صح وھل یرجع ان‌قال علی ان ترجع رجع وان سکت ففی الدین یرجع اتفاقا وفی الکفارۃ والزکوٰۃ لا یرجع علی المذھب کما صحت الاباحۃ بشرط الشبع فی طعام الکفارات سوی القتل وفی لفدیۃ لصوم وجنایۃ " اھ 
یعنی اگر مظاہر نے خود کھانا کھلانے کے بجاۓ کسی دوسرے آدمی کو حکم‌دیا کہ تم میری جانب سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو اور اس شخص نے اسکے حکم کے مطابق ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیا تو درست ہے اور اس کا کفارہ بھی ادا ہو جائے گا لیکن بغیر حکم کے کریگا تو مال کا رقم وصول نہیں کر سکتا
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۳رجب المرجب شریف۱۴۴۴ ھجری 
۲۶جنوری۲۰۲۳عیسوی بروز پنجشنبہ ـــــــــ جمعرات
Previous Post Next Post