علمائے دین کی تحقیق کے مطابق دین کتنے امور کو شامل ہے ؟

مسئلہ :- علمائے دین‌کی تحقیق کے مطابق دین‌کتنے امور کو شامل ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
 چار امور کو شامل ہے، 
جیسا کہ فتاویٰ شامی مترجم جلد اول صفحہ ۱۴  میں ہے:
وہ چار امور یہ ہیں↓↓
عقائد:- ۱؂ یہ وہ امور ہیں جن‌پر ایمان‌لانا‌واجب ہے اور اسمیں ذرہ بھی شک کی  گنجائش نہیں اور یہ الٰہیات اور نبویات اور سمعیات ہیں اور یہی احکام‌اصلیہ ہیں،
اخلاق:- ۲؂ ان سے مراد ملکات نفسیہ ہیں جن کے سبب فضائل ورذائل صادر ہوتے ہیں تاکہ فضائل ورذائل سے ممتاز ہوجائیں اور یہی فضائل کی طرف متوجہ ہونے اور رذائل سے نفرت کرنے کے طرق اور ذرائع ہیں،
احسان:- ۳؂ یہ ﷲ تعالیٰ جلَّ شانهٗ کی معرفت کے لیۓ دل کو خالی اور  خالص کرنا ہے اور صدق دل سے ان امور کی طرف متوجہ ہونا ہے جن سے وہ راضی ہوتا ہے اور اولیاء اللّٰه میں سے کسی کامل کی صحبت میں سیر الی للّٰه منازل کو طے کرنا ہے،
فقہ:- ۴؂ یہ ان احکامِ شرعیہ کا مجموعہ ہے جو مکلفین‌کے اعمال سے متعلق ہیں اور وہ جو بندوں کے اپنے رب کے ساتھ تعلق اور زندگی کے مختلف معاملات میں آپس کے تعلق کو بیان‌کرتے ہیں،
وضاحت: پس یہی چاروں علوم الدین ہیں اور اس سے معلوم ہوتاہے کہ دین‌ایک مکمل نظام‌ِحیات ہے جو اعتقادات اور عبادات میں حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور معاملات میں خیر اور بھلائی کی ترغیب دیتاہے اور یہی احکامِ اسلام‌ہیں اور اِنہی کا مجموعہ شریعت کہلاتا ہے اور یہاں ان تمام کے بارے میں بحث مقصود نہیں بس اتنا جان لینا چاہیۓ کہ زندگی گزارنے‌کے لیۓ اِن مذکورہ چاروں اُمور کو جاننا بہت ضروری ہے جو ان سے ناواقف ہے وہ کسی کام کا نہیں اور اِن کا سیکھنا بھی ضروری ہے اور اِن کے بغیر ہم دنیاوى معاملات بھی ٹھیک سے ادا نہ کرپائیں گے 
 واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۱۲/ جُمادی الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری
۵/ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی بروز جمعرات
Previous Post Next Post