عورت کو ابلیس کا تیر کیوں کہا گیا؟

مسئلہ :-کیا ایسی کوئی روایت ہے کہ عورت  ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے؟ 
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
جی ہاں ایسی روایت ہے، 
 جیسا کہ شرح مسند امام اعظم صفحہ ۱۸۹ میں کنز العمال کے حوالے سے ہے۔
حضرتِ ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲﷺ نے فرمایا:
بے شک عورت ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے(جس کے ذریعے وہ مردوں کا شکار کرتا ہے) تو جب کوئی آدمی‌کسی حسینہ جمیلہ خوبصورت کو دیکھ لے، پھر وہ فوراً ﷲ تعالیٰ کی رضا‌ ک حصول کی خاطر اپنی آنکھیں بند‌کرلے تو اللّٰه تعالیٰ اس کے بعد اسے ایسی عبادت کی توفیق دےگا  جس میں وہ روحانی لطف و لذت پاۓگا-
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۱۱/جُمادی الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری
۴/جنوری ۲۰۲۳ عیسوی بروز بدھ
Previous Post Next Post