نابالغ لڑکے نے بغیر ولی کی اجازت کے کسی کے یہاں کام کیا تو اجرت کا مستحق ہوگا یا نہیں؟

مسئلہ :-خالد کا لڑکا نابالغ ہے  اور خالد نے اسے اجرت پر کام کروانے سے منع کردیا ہے مگر پھر بھی خالد کا لڑکا بکر کے پاس کام کیا تو اجرت کا مستحق ہوگا یا  نہیں؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسئولہ میں پوری اجرت کا مستحق ہوگا اگر چہ یہ اجارہ ناجائز ہے ، 
جیسا کہ ردالمحتار جلد نہم صفحہ۱۰۰ میں ہے " قولہ (من عبد او الصبی)  ای اجر نفسہ بلااذن مولیٰ او اولی قولہ (اجرا) مفعول یسترد والمراد بہ اجر المثل فی الصورتین  کمافی التبین عن النھایۃ، اھ 
اور، بہار شریعت حصہ چہاردہم صفحہ ۱۶۶ میں ہے : 
نابالغ لڑکا جس کو ولی نے منع کر دیا ہے اُس نے اُجرت پر کام کرنے کے لیے عقد کیا یہ اجارہ نا جائز ہے مگر کام کرنے کے بعد پوری اُجرت کا مستحق ہوگا اور اگر اُس کام میں  ہلاک ہوگیا تو دیت واجب ہوگی۔
والله تعالیٰ اعلم 
۴ رجب المرجب ۱۴۴۴ ھجری
۲۷ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی جمعہ مبارکہ
Previous Post Next Post