عقائد اسلام کا جاننا کیوں ضروری ہے؟

مسئلہ:-  عقائد اسلام کا علم ہر مسلمان مرد و عورت کو جاننا کیا ہے؟
بِسمِ ﷲِ اْلْـــرَّحْمٰنِ اْلْـرَّحِـــیْم
الجواب بعون الملک الوھاب
عقائد اسلام کا علم ہر مسلمان مرد و عورت کو حاصل کرنا فرض عین ہے 
جیساکہ  بہار شریعت جلد سوم میں ہے: 
شرعی نقطہ نگاہ سے حصولِ علم کی کئی قسمیں   ہیں  ۔ پہلی قسم تو وہ علم ہے جس کا حاصل کرنا شریعت میں   ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض عین ہے جیسے عقائد اسلام کا علم کہ اگر وہ اسلام کے ضروری عقائد کو نہ جانے گا جو کہ اسلام کی بنیاد ہیں   تو وہ کس طرح اسلام پر قائم رہے گا اور جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جو اسلام کے پانچ ارکان سے ہیں   ان پر عمل کرنے کے لئے ان کے فرائض وواجبات اورضروری مسائل کا علم، یہ علم کہ شریعت میں   حلال کیا ہے اور اس چیز کا علم کہ کن کن چیزوں   سے دین ختم اور برباد ہوجاتا ہے تاکہ ایسی چیزوں   سے بچے اور دور رہے اور فرائض و واجبات کی ادائیگی صحیح طریقہ سے انجام دے اور متشابہات میں   مبتلا نہ ہوجیسا کہ’’ تبیین ‘‘میں   ہے کہ ’’ بلاشک وشبہ اسلام کے بنیادی ارکان خمسہ کا علم حاصل کرنا فرض عین ہے اور علم الاخلاص کا حاصل کرنا بھی کیونکہ عمل کے صحت و ثواب کا دارو مدار اسی پر ہے اسی طرح حلال و حرام اور ریاء و سمعہ کا علم بھی کیونکہ اگر عمل میں   ریاء شامل ہوجائے تو ہر عبادت بے روح اور عابد ثواب سے محروم ہوجاتا ہے اورعجب و غرور اور حد کا علم حاصل کرنا بھی فرض عین کیونکہ یہ چیزیں   بھی اعمال کو سوخت اور ضائع کردیتی ہیں   اوربیع و شرا کا علم، نکاح و طلاق اور دیگر معاملات کا علم ان لوگوں  کو حاصل کرنا ضروری ہے جو ان معاملات سے متعلق ہوں   اورمحرمات الفاظ کا علم اورکفریہ کلمات کا علم بھی حاصل کرناضروری ہے۔‘‘ فرماتے ہیں  :بخدا یہ اہم ترین چیز ہے اس زمانے میں   محرمات الفاظ اور مُکَفَّر  کلمات کا علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ اب عوام بلا خوف و بلا جھجک ایسے الفاظ اور ایسے جملے بے تکلف بول دیتے ہیں   جو انہیں   دائرہ اسلام سے خارج کردیتے ہیں   اور وہ اپنی غفلت، لا علمی اور بے توجہی سے ان کی خطرناکی کو نہیں   سمجھتے اور اپنا ایمان ضائع کربیٹھتے ہیں   اس لئے احتیاط کا تقاضا ہے کہ وہ روزانہ ہی اپنے ایمان کی تجدید کرلیا کریں   کہ کہیں   لا علمی میں   کوئی کفری کلمہ یا کفری عمل کا صدور تو نہیں   ہوگیا، 
(حصہ ۱۹ شرعی اور فقہی اعتبار سے علم کی اقسام) 
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ 
۳۰جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھجری 
۲۳جنوری ۲۰۲۳ عیسوی بروز دو شنبہ ـــــــ پیر شریف
Previous Post Next Post