مسئلہ:- کیا ایسی کوئی روایت ہے کہ رسولِ کائنات ﷺنے بھی ریشم کا جبہ زیبِ تن فرما کر نماز پڑھی ہے؟
بِسمِ ﷲِ اْلْـــرَّحْمٰنِ اْلْـرَّحِـــیْم
الجواب بعون الملک الوھاب:
جی ہاں ایسی روایت حدیث شریف میں موجود ہے کہ رسولِ کائنات ﷺنے بھی ریشم کا جبہ مبارک زیب تن فرما کر نماز پڑھی ہے اور نماز پڑھنے کے بعد فوراً آقاۓ کائنات ﷺنے اتار کر رکھ دیا فرمایا کہ یہ پرہیزگاروں کے لائق نہیں ہے- جیساکہ رئیس المحدثین امیر المومنین فی الحدیث سید الفقہاء حضرت الامام ابو عبداللّٰه محمد بن اسماعیل بخاری رضی ﷲ عنہ بخاری شریف میں حدیث شریف نقل فرماتے ہیں:
حَدَّثنَا عَبدُاللّٰهِ بنُ یُوسُفَ قَالَ: حَدَّثنَا اللَّیثُ عَن یَزِیدَ عَن اَبِی الخَیرِ عُقبۃَ بنِ عَامِرٍ قَالَ: أُھدِیَ اِلَی النَّبِیَّﷺفَرُّوجُ حَرِیرٍ فَلَبِسَهُ فَصَلَّی فِیهِ، ثُمَّ انصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزعًا شَدِیداً کَالکَارِهِ لَهُ وَقَالَ: ((لَا یَنبَغِی ھٰذاَ لِلمُتَّقِین،
ترجمه: ہم سے عبداللّٰه بن یوسف نے بیان کیا،کہا کہ ہم لیث بن سعد نے یزید بن حبیب سے بیان کیا، انہوں نے ابو الخیر مرثد سے، انہوں نے عقبہ بن عامر سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کو ایک ریشم کی قبا تحفہ میں دی گئی- اسے آپنے پہنا اور نماز پڑھی لیکن آپ نماز سے جب فارغ ہوۓ تو بڑی تیزی کیساتھ اسے اتار دیا- گویا آپ اسے پہن کر ناگواری محسوس کر رہے تھے- پھر اپنے فرمایا یہ پرہیزگاروں کے لائق نہیں ہے-
تشریح :مسلم شریف کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ حضرتِ جبرئیل علیہ السلام نے مجھکو اس کے پہننے سے منع فرما دیا- اور آقاۓ کائنات ﷺنے یہ کوٹ اس وقت پہنا ہوگا جب تک مردوں کو ریشمی کپڑے پہننے کی حرمت نازل نہ ہوئی تھی اور پھر بعد میں آقاۓ کائنات ﷺ نے اپنیامت کے مردوں کے لیۓ سونے اور ریشم کی حرمت کا اعلان فرما دیا-
بخاری شریف، مترجم جلد ۱ صفحہ ۴۴۹ نماز کے احکام)
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۲۹ جُمادی الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری
۲۲ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی بروز یکشنبہ ـــــــــ اتوار
Tags:
نماز کا بیان