حضور ﷺ نے فرمایا بچہ پیدا ہو تو بچے سے گندگی کو دور کرو تو گندگی سے کیا مراد ہے؟

مسىٔلہ:-  نومولود بچے کے بارے میں آقاۓ کائنات ﷺارشاد فرماتے ہیں کہ بچے سے گندگی دور کرو تو امر طلب یہ ہے کہ اس گندگی سے کیا مراد ہے؟
بِسمِ ﷲِ اْلْـــرَّحْمٰنِ اْلْـرَّحِـــیْم
الجواب بعون الملک الوھاب:-   نومولود بچے کے بارے میں جو رسولِ کائناتﷺ نے‌ ارشاد فرمایا کہ بچے سے گندگی دور کرو تو اس گندگی سے مراد بچے کا بال تراشنا اور ختنہ کرنا مراد ہے جیسا کہ حدیث شریف میں مذکور ہے اور مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح شریف میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃ اللّٰه علیہ تحریر فرماتے ہیں:
عن سلمان بن عامر الضبى قال: سمعت رسول اللّٰه ﷺ« یقول مع الغلام عقیقۃ فأھریقو عنه وأمیطوا عنه الاذی» رواہ البخاری
ترجمه روایت ہے کہ حضرتِ سلمان ابن عامر ضبی سے۱؂ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷲﷺ کو فرماتے سناکہ بچہ کے ساتھ عقیقه ہے تو اسکی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی دور کرو(بخاری شریف)
 اس حدیث شریف کے راوی حضرتِ سلمان ابن عامر ضبی رضی ﷲ عنہ بصری صحابی ہیں اور آپکے سوا کوئی اس حدیث کا بصری صحابی راوی نہیں، تو اس حدیثِ مبارکہ سے یہ ثابت ہوا کہ بچہ کے پیدا ہونے کے بعد ساتویں دن عقیقہ کرنا سنت ہے اور اگر کسی کے پاس اس وقت استطاعت نہیں تو بعد میں بھی کرسکتاہے اور بچہ کے بال مونڈ دیۓ جائیں اور بکری ذبح کردی جاۓ لڑکی کی طرف سے ایک اور لڑکے کی طرف سے دو بکری یا بکرا اور  اسی دن بچے کے نام بھی رکھا جاۓ یہ سنت طریقہ ہے 
اور گندگی سے مراد سر کے  بال ہیں کیونکہ وہ بال ماں کے پیٹ سے ساتھ آتے ہیں  آلائش میں لتھڑے ہوتے ہیں اگرچہ گھر والے غسل دیتے وقت انہیں دھو دیتے ہیں مگر ان کا سر سے دور کردینا اچھا ہے، اور بعض شارحین نے فرمایا کہ گندگی سے مراد بچہ کا ختنہ کردینا ہے، 
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد،۶،صفحہ،۱، عقیقه کابیان
واللّٰه سبحانہٗ تعالیٰ الاعلٰی ورسولہٗ ﷺاعلم بالصوابــــــــــ
۲۷/ جُمادی الآخر شریف ۱۴۴۴ ھجری 
۲۰/ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی بروز آدینہ ـــــــ جمعۃالمبارک
Previous Post Next Post