مسئلہ:- خلع ہونے کے بعد لڑکا لڑکی ماں کی پرورش میں کتنے سال رہیں گے؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
لڑکا سات سال لڑکی نو سال
میاں اور بیوی کے درمیان خلع ہوجائے تو تو عند الشرع چھوٹے بچوں کی پرورش کا حق ماں کو ہے. اب اگر لڑکا ہے تو سات سال کی عمر تک اس کی ماں کو پرورش کا حق حاصل ہے، اس کے بعد سے بلوغ تک لڑکا اپنے باپ کے پاس رہے گا پھر جب بالغ ہوگیا اور سمجھ والا کہ فتنہ یا بدنامی کا اندیشہ نہ ہو اور نہ ہی تادیب کی ضرورت ہو تو جہاں چاہے رہے اور تادیب کی ضرورت ہوتو باپ دادا کے پاس رہے گا ، حالات زمانہ کو دیکھتے ہوئے خود مختار نہ چھوڑاجائے البتہ بعد بلوغ نفقہ باپ کے ذمہ نہیں. اور اگر لڑکی ہے تو نوسال کی عمر تک ماں کی پرورش میں رہےگی لیکن اگر ماں پرورش کی اہل نہ ہو جیسے کہ مرتدہ ہوجائے یافسق میں مبتلا ہو جائے جس کی وجہ سے بچی کی پرورش میں فرق آئے یا وہ بچی کے غیر محرم سے نکاح کر لے تو حق پرورش نانی کو ہوگا ورنہ دادی کو اس کے بعد سے لڑکی جب تک کنواری ہے باپ دادا وغیرہم کے پاس رہے گی، مگر جب کہ عمر رسیدہ ہوجائے اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اسے اختیار ہے جہاں چاہے رہے، اور ثیب ہے مثلاً بیوہ ہے اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اسے اختیار ہے ورنہ باپ دادا وغیرہ کے یہاں رہے.
ماخوذ از، بہار شریعت حصہ ۸ صفحہ ۲۵۲ ، ۲۵۵ , ۲۵۶ مکتبۃ المدینہ)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے: حق الناس بحضانۃ الصغير حال قیام النکاح او بعدالفرقۃ الام الا ان تکون مرتدۃ او فاجرۃ غیر مامونۃ کذا فی الکافی الخ... والأم والجدۃ أحق بالغلام حتی یستغنی وقدر بسبع سنیںن وقال القدوری حتی یاکل وحدہ ویشرب وحدہ ویستنجی وحدہ... والأم والجدۃ أحق بالجاریۃ حتی تحیض وفی نوادر ھشام عن محمد رحمہ اللہ اذابلغت حدالشھوۃ فالاب أحق وھذا صحيح، ھکذا فی التبیین... ویمسکہ هؤلاء ان کان غلاما الی ان یدرک فبعد ذالک ینظر ان کان قد اجتمع رایہ وھو مأمون علی نفسہ یخلی علی سبیلہ فیذھب حیث شاء وان کان غیر مأمون علی نفسہ فالاب یضمہ الی نفسہ و بولیہ ولانفقۃ علیہ الا اذاتطوع کذا فی شرح الطحاوی والجاریۃ ان کانت ثیبا وغیرمامونۃ علی نفسھا لایخلی سبیلہا و یضمھاالی نفسہ و ان کانت مامونۃ علی نفسہا فلا حق لہ فیہا ویخلی سبیلہا وتنزل حیث أحببت کذا فی البدائع اھ"
(کتاب الطلاق باب الحضانۃ)
والله تعالیٰ اعلم
۹ جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۲ جنوری ۲۰۲۳ عیسوی دوشنبہ
Tags:
خلع کا بیان