نماز میں بلند آواز سے آمین کہنے کے متعلق امام ومقتدی دونوں کا حکم

مسئلہ :- جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ کے بلند آمین کہنے کے متعلق امام ومقتدی کا کیا حکم ہے؟
 بلند آواز سے آمین کہنا خلاف سنت ہے نماز خواہ سری ہوکہ جہری منفرد ہویامقتدی یاامام

محقق جلیل اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 
آمین سب کو آہستہ کہنا چاہیے امام ہوخواہ مقتدی یامنفرد یہی سنت ہے، 
(فتاوی رضویہ  مترجم جلد  ٦صفحہ  ۳۳۲)
اور اسی طرح
عالمگیری  جلد اول صفحہ ۷۴ میں ہے
اذافرغ من الفاتحہ قال آمین والسنۃ فیہ الاخفاء والمنفرد والامام سواء وکذالماموم اذاسمع " اھ
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد ٦ صفحہ ۷۵ میں ہے: 
عن ابی وائل قال لم یکن عمروعلی رضی اللہ عنھما یجھران بسم اللہ الرحمن الرحیم ولابامین "اھ 
حضرت ابووائل فرماتے ہیں حضرت عمر وعلی رضی اللہ عنہما بسم اللہ الرحمن الرحیم اور آمین جہر سے نہ کہتے تھے، 
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
۷ جمادی الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۳۱ دسمبر ۲۰۲۲ عیسوی شنبہ
Previous Post Next Post